قرآن سے ہدایت لینے میں ناکامی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
قرآن سے ہدایت لینے میں ناکامی
موجودہ زمانے میں جب قرآن کے مطبوعہ نسخے عام ہوئے تو بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں میں قرآن کو پڑھنے کا رواج پیدا ہو گیا۔ مسجدوں اوراداروں میں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کتابوں اور جرائد کے ذریعے قرآنی تعلیمات کی اشاعت کی جانے لگی۔ قرآن کی تفہیم کے لیے جماعتیں بنیں اور ادارے قائم ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں عمومی طور پر قرآنی ذہن بنے اور قرآنی طرزِ فکر پیدا ہو، مگر عجیب بات ہے کہ دروسِ قرآن کی کثرت اور قرآنی کتابوں کی عمومی اشاعت کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔
اس کا اصل سبب یہ ہے کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ اُس کو صحیح ذہن کے تحت پڑھا جائے ۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (26: یعنی جو لوگ صحیح ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں گے، اُن کو قرآن سے ہدایت ملے گی، اور جو لوگ بگڑے ہوئے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں، وہ قرآن کو پڑھنے کے باوجود قرآن سے ہدایت پانے سے محروم رہیں گے۔
قرآن فہمی کا اصول
علماء تفسیر نے عام طور پر قرآن فہمی کے لیے 15 علوم میں مہارت کو ضروری قرار دیا ہے علم لغت، علم نحو، علم صرف، علم اشتقاق، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم قرآت، علم عقائد، علم اصول فقہ، علم اسبابِ نزول، علم ناسخ و منسوخ، علم فقہ، علم حدیث، علم وہبی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف یہ علوم قرآن فہمی کے لیے کافی نہیں۔ بیسویں صدی عیسوی میں کثیر تعداد میں ایسے علما اٹھے جن کا مقصد قرآنی علم کو عام کرنا تھا۔ یہ علما مذکورہ تمام علوم کے ماہر تھے، مگر عین اسی دور کے مسلمان ایک بہت بڑے قرآنی علم سے بے خبر رہ گئے ۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے صرف مذکورہ علوم سے واقف ہونا کافی نہیں۔ مطلوب قرآنی علم وہ ہے جس کو کتاب اللہ میں ’’فرقان‘‘ (8:29)کہاگیاہے- (29: (8:29)کہاگیاہے- فرقان فرق کا مبالغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: دو چیزوں کے درمیان فرق کرنے والا۔ قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues