Al-Risala · August 2013 · page

استشراق کی حقیقت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

علم کے دونوں شعبوں میں ایک بنیادی فرق تھا۔ علمِ فطرت کا میدان فطرت کے اٹل قوانین تھے۔ اس میں ممکن تھا کہ علمِ ریاضی (mathematics) کے قطعی فارمولے کو استعمال کرتے ہوئے قطعی نتیجے تک پہنچا جائے اور اگر بالفرض کوئی انسان اپنے اندازے میں غلطی کر جائے تو دوسرا انسان مزید تجزیہ کے ذریعے اس کی تصحیح کر سکے۔ اسی لیے ان علوم کو قطعی علوم (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ لیکن علمِ انسانیات، بہ شمولِ مذہب، میں اس کے استعمال کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ اس شعبے میں حتمی نوعیت کا کوئی ریاضیاتی طریقہ قابل حصول نہ تھا، اس لیے یہاں لازمی طور پر یہ ہونا تھا کہ انسانیات کے شعبے میں مطالعہ کرنے والوں کی رائے میں اختلاف پیدا ہو، وہ کسی معاملے میں غلط استنباط (wrong inference) کا شکار ہو جائیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ انسانیات کے دائرے میں مطالعہ کرنے والا انسان کوئی ایسا اصول وضع کر سکے جس میں سرے سے کوئی غلطی نہ پائی جاتی ہو۔ انسانیات کے مطالعے میں جو غلطیاں پائی جاتی ہیں، وہ اختلافِ رائے کی بنا پر ہیں، نہ کہ سازش یا بدنیتی کی بنا پر۔ یہی استشراق کا معاملہ ہے۔ استشراق کا کیس ایک طریقِ مطالعہ کا کیس ہے، نہ کہ سازش یا بدنیتی کا کیس۔

اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستشرقین کے اس ذہن کو مدعو کے ذہن کے طور پر لیا جائے، نہ کہ کسی دشمن کے سازشی ذہن کے طور پر۔ ہر مدعو کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ اس طرح مستشرقین کا کیس بھی مدعو کا کیس ہے اور ان کی بھی اپنی ایک سوچ ہے۔ اگر ہم مستشرقین کے کیس کو مدعو کے کیس کے طور پر لیں تو ہمارے دل میں اُن کے بارے میں وہی خیر خواہی پیدا ہو جائے گی جو ہر مدعو کے لیے ایک داعی کے دل میں ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ ہم مستشرقین کے ذہن کو غیر جانب دارانہ انداز میں سمجھیں اور اُن سے داعیانہ ذہن کے تحت ڈسکشن کریں اور اُن کو اسلام کا فطری پیغام پہنچائیں۔ مستشرقین بھی انسان ہیں۔ اُن کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اگر اُن کی فطرت ایڈریس ہو جائے تو اُن کے ساتھ وہی واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page