اتباعِ سُبُل
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اتباعِ سُبُل
قرآن کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی صراط مستقیم پر قائم ہو، اور دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو اتباعِ سبل کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ (6:154) یعنی یہی میری سیدھی شاہ راہ ہے، پس اسی پر چلو اور دوسرے راسں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ قرآن کی اس آیت میں صراط مستقیم سے مراد قرآن کی تعلیمات کا وہ صاف اور واضح مفہوم ہے جس کو کسی تاویل کے بغیر ایک انسان سمجھ سکتا ہے۔ اتباعِ سبل سے مراد یہ ہے کہ دور از کار تاویلات کے ذریعے موشگافیاں کی جائیں اور آیات کے نئے معانی نکال کر اُن کو وہ اہمیت دے دی جائے جو کہ اصل دین خداوندی میں نہیں ہے۔ یہ طریقہ دراصل غلو کی ایک قسم ہے۔ یہ غلو لوگوں کو ہدایت کے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔ چند مثالوں سے اس مسئلے کی وضاحت ہوگی۔
پہلی صدی ہجری میں خوارج کا ظہور ہوا۔ انھوں نے غلو کر کے دین میں نئے نئے مسئلے بنائے۔ مثلاً قرآن کی سادہ تعلیمات کے مطابق، توبہ سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے، لیکن خوارج نے اس میں خود ساختہ بحثیں نکالیں اور یہ عقیدہ بنا لیا کہ گناہ کبیرہ کی تو توبہ نہیں ہے۔ اس مسئلے پر انھوں نے اتنی زیادہ متشددانہ بحثیں کیں کہ مسلمانوں میں خارجی فرقہ کے نام سے ایک غالی فرقہ وجود میں آگیا۔ خارجیوں کا یہ طریقہ بلاشبہ اتباعِ سبل کی ایک مثال ہے۔
اسی طرح تیسری صدی ہجری میں معتزلہ نے دین میں موشگافیاں کرکے نئے نئے اعتقادی مسئلے نکالے۔ مثلاً قرآن کے بارے میں سادہ اور فطری عقیدہ یہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، لیکن معتزلہ نے خود ساختہ موشکافی (hairsplitting) کر کے یہ نیا سوال کھڑا کیا کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق۔ اس سوال نے اُس زمانے میں اتنی شدت اختیار کی کہ اس پر دو متحارب گروہ بن گئے۔ یہ اتباعِ سبل کی ایک مہلک مثال تھی۔ اسی طرح عباسی دور میں فقہ نے جو صورت اختیار کی اور جس کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues