Al-Risala · September 2013 · page

اتباعِ سُبُل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

نتیجے میں آخر کار، امت کے اندر جامد فرقے بن گئے، یہ معاملہ بھی اسی اتباعِ سبل کی ایک مثال ہے۔ مسائلِ دین میں فقہی اختلاف اس لیے پیدا ہوا کہ صحابہ کی روایتوں میں فرق پایا گیا۔ اس فرق کی توجیہ فقہانے اس طرح کی کہ فنی بحثیں کرکے ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا۔ لیکن چوں کہ دونوں مسلکوں کے حق میں صحابہ کی روایتیں موجود تھیں، اس لیے امام شافعی کو یہ کہنا پڑا کہ: رأیی صواب يحتمل الخطأ، ورأي غيرنا خطأ يحتمل الصواب۔ یہ طریقہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے، اتباعِ سبل کی ایک مثال ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امتِ واحدہ امتِ متفرقہ میں تبدیل ہوگئی۔ ابتدائی صورت میں یہ اختلاف، تنوع (diversity) کے ہم معنی تھا، لیکن فقہا کے خود اپنے بنائے ہوئے اصول (الحق لا يتعدد) کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ ہر گروہ کے اندر تشدد پسندی آگئی، ہر گروہ صرف اپنے آپ کو حق سمجھنے لگا۔

اسی طرح بعد کے زمانے کے صوفیا نے غیر اسلامی تصورات سے متاثر ہو کر وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ اسلام میں داخل کیا۔ یہ بلاشبہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم سے انحراف تھا۔ قرآن کے بتائے ہوئے تصور کے مطابق، صحیح عقیدہ وہ ہے جو توحید (monotheism) کے تصور پر قائم ہے، یعنی خدا ایک علاحدہ ہستی ہے اور مخلوقات ہر اعتبار سے اُس سے الگ ہیں۔ وحدتِ وجود کے تصور کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے، وہ تمام تر فلسفیانہ قسم کے مذہبی تصور پر قائم ہے جو اسلام سے باہر خارجی دنیا میں پیدا ہوئے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاها (9:30) کہا گیا ہے۔

بعد کو شیخ احمد سرہندی (وفات: 1624) نے بظاہر اس کے رد میں ایک دوسرا تصور پیش کیا جس کو وحدتِ شہود کہا جاتا ہے۔ وحدتِ وجود کی تشریح کے لیے صوفیا نے جو لفظ استعمال کیا، وہ ’’ہمہ اوست‘‘ کی اصطلاح ہے، یعنی سب کچھ وہی ہے۔ اس کے مقابلے میں شیخ احمد سرہندی نے وحدتِ شہود کا جو تصور پیش کیا، اس کے لیے انھوں نے ’’ہمہ از اوست‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، یعنی سب کچھ اُسی سے ہے۔ مگر وحدتِ شہود کی اصطلاح ایک مبہم اصطلاح ہے، اس سے اصل حقیقت منقح ہو کر

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page