Al-Risala · September 2013 · page

ایک پیغمبرانہ پیشین گوئی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

ایک پیغمبرانہ پیشین گوئی

حدیث کی کتابوں میں کئی ایسی روایتیں آئی ہیں جن کا تعلق مستقبل کی پیشین گوئی سے ہے، اسی قسم کی ایک پیشین گوئی وہ ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک الأمم أن تداعی علیکم كما تداعی الأكلة إلى قصعتها۔ فقال قائل: و من قلة نحن يومئذ۔ قال بل أنتم يومئذ كثير، ولكنكم غثاء كغثاء السيل، و لينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفنّ فی قلوبكم الوھن۔ قيل وما الوھن يا رسول الله۔ قال: حب الدنيا وکراھیۃ الموت (أبو داؤد، رقم الحديث: 4297) حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تمھارے اوپر ٹوٹ پڑیں، جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، کیا اس لیے کہ اُس وقت ہم لوگ کم تعداد میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اُس وقت تم لوگ بہت زیادہ ہوگے، مگر تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے، اللہ تمھارے حریف کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا، اور تمھارے دلوں میں وہن پیدا کر دے گا۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، وہن کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت، اور موت کو ناپسند کرنا۔ اس حدیث میں عدو کا لفظ دشمن یا مقاتل کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ حریف (rival) کے معنی میں ہے۔ قصعۃ بڑے پیالہ (large bowl) کو کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ رواج تھا کہ ایک بڑے برتن میں کھانا رکھ دیا جاتا تھا اور کھانے والے اس کے چاروں طرف بیٹھ کر کھاتے تھے۔ حدیث میں اس تمثیل کے ذریعے ایک ایسے دور کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو بعد کے زمانے میں مسلم دنیا میں آنے والا تھا۔ حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں معروف قسم کے کسی جنگی حملے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ غالباً اُس میں اُس پر امن واقعے کا ذکر ہے جو اٹھارھویں صدی اور انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران دنیا میں پیش آیا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، یہ کوئی جنگی معاملہ نہ تھا، بلکہ آج کل کی اصطلاح میں وہ اقتصادی استحصال (economic exploitation) کا معاملہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page