ایک پیغمبرانہ پیشین گوئی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب جدید صنعت (modern industry) کا دور آیا تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا جس کو کثیر پیداوار (mass production) کہا جاتا۔ اب صنعتی ملکوں کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس فاضل صنعتی پیداوار کو کہاں کھپایا جائے۔ قدیم زمانے میں چیزیں صرف دست کاری کے نظام کے تحت بنتی تھیں۔ دست کار محدود تعداد میں استعمال کی چیزیں بناتا تھا جو کہ مقامی بازار میں فروخت ہو جاتی تھیں۔ لیکن موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کی بنا پر چیزیں بہت زیادہ مقدار میں بننے لگیں جو کہ مقامی ضرورت سے بہت زیادہ ہوتی تھیں۔
اس صورت حال نے مغربی قوموں کے اندر ایک نئی ضرورت کا احساس پیدا کیا، یعنی اپنی فاضل پیداوار کی کھپت کے لیے بیرونی ملکوں میں مارکیٹ کی تلاش۔ اٹلی کے کرسٹوفر کولمبس (وفات: 1506) اور پرتگال کے واس کوڈی گاما (وفات: 1524) کے بحری اسفار اسی تجارتی روٹ کی دریافت کرنے کے لیے تھے۔ برٹش کمپنی، فرنچ کمپنی اور ڈچ کمپنی جیسے تجارتی ادارے اسی مقصد کے لیے بنائے گئے۔ انیسویں صدی (1869-1859) میں سوئز نہر (Suez Canal) اسی تجارتی توسیع کے لیے بنائی گئی، وغیرہ۔
صنعتی قوموں (industrial nations) کی طرف سے اقتصادی استحصال کے دو بڑے دور ہیں۔ پہلا دور وہ ہے جو نو آبادیات (colonialism) کے تحت ظہور میں آیا۔ دوسرا دور وہ ہے جو بیسویں صدی میں ظہور میں آیا جب کہ مسلم ملکوں کی زمین کے اندر تیل کے ذخائر دریافت ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے ذخائر کا 75 فی صد سے زیادہ حصہ مسلم ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ صنعتی قوموں کو اپنی انڈسٹری چلانے کے لیے تیل کی مسلسل سپلائی کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مسلم ملکوں پر اپنی بالا دستی قائم کی، تاکہ اُن کا صنعتی مفاد کسی روک ٹوک کے بغیر مسلسل باقی رہے۔ 1948 میں اسرائیل کا قیام بھی اسی خاص مقصد سے تھا۔ اس کا محرک ہرگز ’اسلام دشمنی‘ نہ تھا، بلکہ صرف اپنے قومی اور تجارتی مفاد کو محفوظ رکھنا تھا۔
تاریخ میں ہمیشہ نئے حالات پیش آتے ہیں۔ یہ نئے حالات گویا ایک نئے قسم کا چیلنج ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues