Al-Risala · September 2013 · page

اسپرچول تہذیب کے اجزا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ فرشتوں نے یقیناً اس کو ریکارڈ کیا، لیکن انسان کی آنکھوں نے کبھی اس واقعے کو نہیں دیکھا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ صرف اس لیے تھا کہ وہ ایک شخص کے دل میں پیدا ہو اور ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔

اسی طرح چار ہزار سال پہلے جب پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبے کے تحت اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا۔ اُس وقت ہاجرہ نے پیغمبر ابراہیم سے پوچھا کہ کیا خدا نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس کے بعد ہاجرہ کی زبان سے نکلا: إذن لا يضيعنا (پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا)۔ صحرا کے اس بے آب و گیاہ ماحول میں جب ہاجرہ نے یہ الفاظ کہے ہوں گے، اُس وقت ان کے دل میں اعتماد علی اللہ کا ایک عظیم کیفِیاتی طوفان بر پا ہوا ہوگا۔ یہ طوفان بلاشبہ مصر کے اہرام اور آگرہ کے تاج محل سے بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بلاشبہ فرشتوں کے ریکارڈ میں آیا، لیکن انسان کے لیے وہ ایک ناقابلِ ذکر واقعہ بنارہا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ وہ ایک فرد کے دل میں برپا ہو، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اسی طرح ایک واقعہ وہ ہے جو تقریباً تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں پیش آیا۔ قرآن میں اس واقعے کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اُس وقت کے بادشاہ فرعون نے مصر کے ماہر جادوگروں کو بلایا، تاکہ وہ حضرت موسیٰ کے معجزے کا مقابلہ کریں۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق، ایک میدان میں اہل مصر بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ وہاں جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں۔ لوگوں کو نظر آیا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر میدان میں چل رہی ہیں۔ اُس وقت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا میدان میں ڈالا۔ حضرت موسیٰ کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سحر کو نگل گیا۔ جادوگروں نے جب اس واقعے کو دیکھا تو اُن پر ظاہر ہو گیا کہ اُن کا کیس جادو کا کیس تھا، لیکن موسیٰ کا کیس اس سے مختلف کیس ہے۔ وہ رب العالمین کے پیغمبر کا کیس ہے۔ اس صداقت کے ظاہر ہوتے ہی جادوگروں نے اپنی غلطی کو مان لیا۔ وہ پکار اٹھے: آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَى (20:70)۔ فرعون جادوگروں پر سخت غضبناک ہوا۔ اس نے ان کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page