Al-Risala · September 2013 · page

Electricity means flow of electrons.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

یہی معاملہ اسپرچول تہذیب کا بھی۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مائیکل فریڈے (Michael Faraday, d. 1867) ایک برٹش سائنس داں تھا۔ کچھ تجربات کے دوران اُس کے دماغ میں ایک آنڈیا آیا، جواب اصطلاحی طور پر الیکٹرومیگنیٹزم (electromagnetism) کے طور پر معروف ہے۔ یہ آنڈیا فطرت کے اُس قانون کے بارے میں تھا جس کو الیکٹری سٹی (electricity) کہا جاتا ہے۔ اس آنڈیا کے تحت یہ فارمولا بنایا گیا کہ بجلی کا مطلب ہے— الیکٹران کا بہاؤ:

Electricity means flow of electrons.

وہ چیز جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فطرت کے دو قوانین کا نام ہے۔ روشنی (light) اور حرکت (motion)۔ فطرت کے ان دو غیر مرئی قوانین نے جب عملی صورت اختیار کی تو اس کے نتیجے میں وہ مرئی ظاہر وجود میں آ یا جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ اسپرچول تہذیب کا بھی ہے۔ اسپرچول تہذیب ابتداء ایک مخفی واقعے کی صورت میں ایک بندہ مومن کے سینے میں غیر مرئی طور پر وجود میں آتی ہے۔ اسپرچول تجربہ کیا ہے، اس کو قرآن کی ان آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے: والذين آمنوا أشد حباً لله (2:165)، ولم يخش إلا الله (18: 9)، مما عرفوا من الحق (5:38)، وقلوبهم وجلة (23:60)، في أهلنا مشفقين (52:26)، لا تحزن إن الله معنا (9:40)، وغیرہ۔ مذکورہ حوالے ایک مومن کے سینے میں پیدا ہونے والے اسپرچول تموجات کو بتاتے ہیں۔ یہ اسپرچول تموجات (spiritual waves) اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلا شبہہ ہمالیائی تموجات تھے، لیکن دنیا کی زندگی میں وہ غیر مرئی واقعہ بن کر رہ گئے۔ یہ خدا کی شانِ رحمت کے خلاف ہے کہ ایک سائنس داں کی مادی معرفت تو مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہو، لیکن ایک مومن کی ربانی معرفت محسوس اسپرچول تہذیب کی صورت میں متشکل نہ ہو۔ قرآن کے مذکورہ بیانات اسی سوال کا جواب ہیں۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page