دو قسم کے چہرے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۱
سائنس دانوں کی مادی معرفت خارجی طور پر متشکل ہو کر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں ظاہر ہوئی، اسی طرح آخرت میں مزید اضافے کے ساتھ یہ ہوگا کہ مومن بندوں کی ربانی معرفت، جو دنیا میں غیر مرئی تھی، وہ آخرت میں خارجی طور پر متشکل ہوگی۔ اسی واقعے کو قرآن میں نورانی ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی واقعے کا دوسرا نام آخرت کی ابدی دنیا میں بننے والی اسپرچول تہذیب ہے۔
دو قسم کے چہرے
قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ قیامت میں انسانوں کو چھانٹ کر الگ کیا جائے گا، اہلِ جنت الگ اور اہلِ جہنم الگ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (3:103) یعنی جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، اُن سے کہا جائے گا کہ کیا تم اپنے ایمان کے بعد منکر ہو گئے، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔
”روشن چہرہ“ سے مراد کیا ہے۔ اس سے مراد ہی روشن شخصیت ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے ہو چکی ہے۔ ”سیاہ چہرہ“ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے چہروں پر سیاہ رنگ لگا دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی داخلی برائی ظلمت بن کر اُن کے چہرے پر نمایاں ہو جائے گی۔ جس غیر ربانی شخصیت کو وہ اپنی جھوٹی تدبیروں سے اپنے اندر چھپائے ہوئے تھے، وہ ظاہر ہو کر لوگوں کو محسوس طور پر دکھائی دینے لگے گی۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے، یہ وہی بات ہے جو دنیا کی زندگی میں بھی جزئی طور پر مشاہدات میں آتی ہے، چناں چہ کہا جاتا ہے کہ:
Face is the reflection of one's inner personality. دنیا کی زندگی میں برے لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ اندر سے بالکل غیر سنجیدہ تھے، مگر اوپر سے وہ اپنے آپ کو سنجیدہ ظاہر کرتے تھے۔ وہ جھوٹ اور بددیانتی پر کھڑے ہوئے تھے، لیکن خوب صورت الفاظ کے ذریعے وہ اپنی حقیقت پر پردہ ڈالے ہوئے تھے۔ دل اور دماغ کے اعتبار سے، وہ صرف ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues