دو قسم کے چہرے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۲
دنیا پرست انسان تھے، لیکن اپنے ظاہر فریب رویّے سے وہ آخرت پسندی کے اسٹیج پر پُر رونق جگہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ قیامت کے بعد جو آخرت کی دنیا آئے گی، وہاں تمام حقیقتیں اپنی اصل صورت میں ظاہر ہو جائیں گی۔ وہاں ہر عورت اور مرد اپنی اصل داخلی صورت میں نمایاں ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہے قیامت میں چہروں کے سیاہ ہونے کا۔
برے لوگ وہاں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے چہروں پر سخت قسم کی حسرت اور ندامت چھائی ہوئی ہوگی۔ وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہوں گے۔ ان کا احساسِ محرومی ان کے پورے وجود کو بے قیمت بنائے ہوئے ہوگا۔ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں ان کی کامل مایوسی کی بنا پر ان کا احساس یہ ہوگا کہ وہ حیوان سے بھی زیادہ بے قیمت ہیں۔ ان کی بے بسی کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپانا چاہیں گے، لیکن وہاں انھیں کوئی جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ اپنے آپ کو چھپالیں ۔ جنت کا معاشرہ جنت کے معاشرے میں وہ خوش قسمت افراد جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنتی شخصیت کی حیثیت سے تیار کیا ہوگا۔ جنتی شخصیت کا لفظ کوئی پراسرار لفظ نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو انتہائی معنوں میں بلند فکری (high thinking) کے مالک ہوں۔ یہی وہ اعلیٰ کردار ہے جس کو قرآن میں خُلقِ عظیم (68:4) یا مزکی شخصیت (20:76) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ شخصیت والا انسان کون ہے، یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کے دنیوی محرکات (worldly motivations) سے اوپر اٹھایا، جس نے اپنے آپ کو کامل طور پر متعصبانہ فکر (biased thnikiing) سے پاک کیا، جس نے اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے بچایا، جس نے اپنے اندر اُس انسان کی تعمیر کی جس کو کاپلکس فری سول(complex free soul) کہا جاتا ہے، جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ انٹیگریٹڈ پیڈ پرسنالٹی (integrated personality) کا حامل انسان ہے — یہی وہ صفات ہیں جن سے متصف افراد کو ایک لفظ میں، ربانی انسان کہا جاسکتا ہے۔ انھیں صفات کے حامل افراد کو جنت میں آبادکاری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues