Al-Risala · September 2013 · page

جنتی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

جنتی شخصیت کی تعمیر

مذکورہ اعلی ربانی صفات پیدا کرنے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ صبر ہے۔ صبر کے ذریعے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے غیر موافق احوال کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ منفی اسباب کے اندر اپنی مثبت سوچ کو مستقل طور پر برقرار رکھے۔ وہ مسائل کو عذر (excuse) نہ بناتے ہوئے اپنا ربانی سفر جاری رکھے۔ اسی بنا پر قرآن میں کہا گیا ہے کہ صبر کرنے والے جنت کے اعلی مقامات میں جگہ پائیں گے۔ (25:75)

صبر کی اسی اہمیت کی بنا پر صبر کو اعلی ترین انعام کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ہر عملِ خیر کی لازمی بنیاد ہے۔ اسی لیے قرآن میں صبر کرنے والوں کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں : اِنَّمَا يُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

جسمانی سرگرمیاں، ذہنی سرگرمیاں

انسانی تاریخ کی تصویر اگر یہ ہو کہ اس میں انسان کے جسم (body) کی سرگرمیاں (activities) تو خوب بیان ہوئی ہوں، مثلاً پہلوانی (wrestling) اور باکسنگ (boxing) جیسی سرگرمیاں تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہوں، لیکن انسان کے وجود کا دوسرا اہم تر حصہ جس کو ذہن (mind) کہا جاتا ہے، اس کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہو، پوری تاریخ میں انسان کی ذہنی سرگرمیاں (intellectual activities) غیر مذکور (unrecorded) ہو کر رہ جائیں تو ایسی انسانی تاریخ کو نہ صرف نامکمل، بلکہ آخری حد تک بے معنی (meaningless) کہا جائے گا۔

یہ فرضی بات نہیں، بلکہ یہ انوکھا واقعہ عملاً مزید اضافے کے ساتھ پوری دنیا میں پیش آیا ہے۔ وہ اس طرح کہ انسان کی مادی سرگرمیاں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل (materialized) ہو کر اپنی پوری صورت میں لوگوں کے سامنے موجود ہیں۔ مادی تہذیب کو ہر آدمی جانتا ہے اور ہر آدمی اس کو دیکھ رہا ہے۔ مادی تہذیب ہر آدمی کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ لیکن انسانی سرگرمیوں کی ایک اور قسم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page