جسمانی سرگرمیاں، ذہنی سرگرمیاں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
ہے۔ اس کو اسپرچول سرگرمیاں (spiritual activities) کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سرگرمیاں ہیں جو انفرادی سطح پر سچے انسانوں کی زندگی میں پیدا ہوئیں۔ وہ پوری طرح غیر مرئی (unobservable) تھیں۔ افراد کی داخلی زندگی میں مکمل طور پر موجود ہونے کے باوجود وہ ظاہری طور پر کبھی متشکل نہیں ہوئیں۔ مثلاً تاریخ کے ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے خدا کو اپنا سول کنسِرن (sole concern) بنایا، جن کی سوچ تمام تر سچائی اور دیانت داری پر مبنی تھی، جنھوں نے دنیا کے بجائے آخرت کو اپنی تو جہات کا مرکز بنایا، جن کی آخری آرزو یہ تھی کہ اُن کو جنت میں داخلہ ملے، جنھوں نے خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کو سمجھا اور ان سے تجاوز نہیں کیا، جن کا ربانی شعور اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ ہر وقت داخلی طور پر توبہ واستغفار میں مشغول رہتے تھے۔
یہ تمام اعمال انتہائی اعلی اعمال ہیں، لیکن وہ ہمیشہ کیفیات کی سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کو کمیاتی اصطلاح (quantitative term) میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ربانی اعمال یا اسپرچول سرگرمیاں افراد کی داخلی دنیا میں پیدا ہوئیں اور پھر افراد کی موت کے ساتھ بظاہر ختم ہو گئیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ اعلی اسپرچول تہذیب کی حیثیت رکھتی تھیں، مگر اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود وہ کبھی ظاہری طور پر متشکل نہیں ہوئیں جس طرح مادی تہذیب اپنی ظاہری صورت میں متشکل ہوئی۔ آخرت کی دنیا جو قیامت کے بعد آئے گی، وہ اسی کی تلافی اور تکمیل کے لیے ہے۔ قیامت ایک طرف مادی تہذیب کو پوری طرح نابود کر دے گی، اگلے مرحلہ حیات میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا، دوسری طرف یہ ہوگا کہ آخرت کے موافق ماحول میں ماضی کے اسپرچول واقعات پوری طرح متشکل ہو کر ایک اسپرچول تہذیب کی صورت اختیار کر لیں گے۔
یہ اسپرچول تہذیب ایک ابدی تہذیب ہوگی۔ قیامت سے پہلے کے دور تاریخ میں دونوں قسم کے افراد باہم ملے ہوئے تھے، لیکن قیامت کے بعد کے دور تاریخ میں دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔ (27:83)
خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق ، قیامت سے پہلے کا دور حیات
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues