خاتمہ کلام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
انفرادی اعتبار سے تعمیر شخصیت کا دور تھا، وہ اجتماعی اعتبار سے تعمیر تہذیب کا دور نہ تھا۔ آخرت کی دنیا میں یہ ہوگا کہ جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر نہ کی، وہ رد کردئے جائیں گے اور جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر کی، وہ خدا کے مطلوب بندے ٹھہریں گے۔ ایک گروہ کا کیس کامیابی کا کیس ہوگا اور دوسرے گروہ کا کیس ناکامی کا کیس۔ (42:7)
قرآن میں دونوں قسم کے افراد کو مختلف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کامیاب افراد روشن چہروں (bright faces) والے ہوں گے اور ناکام افراد سیاہ چہروں (dark faces) والے۔ کامیاب افراد ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی پائیں گے اور ناکام افراد ابدی طور پر حسرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
خاتمہ کلام
اللہ کو مطلوب تھا کہ اسپرچول تہذیب کا تسلسل دنیا کے آغاز سے لے کر اس کے خاتمے تک جاری رہے۔ اللہ نے دیکھا کہ انسان کو دی گئی آزادی کی بنا پر تسلسل مجموعے کی سطح پر جاری نہیں ہوسکتا، اس لئے اللہ نے اس کو افراد کی سطح پر جاری کردیا۔ چناں چہ انسانی مجموعے کی سطح پر اگر چہ اسپرچول تہذیب کا تسلسل جاری نہیں ہے، لیکن افراد کی سطح پر تسلسل مکمل طور پر جاری ہے۔ اس سلسلے کا پہلا فرد غالباً ابتدائی دور کا ہابیل ابن آدم تھا، جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے (5:27) اور اس سلسلے کا آخری فرد غالباً دورِ آخر کا وہ رجل مومن ہوگا جس کا ذکر صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2938)
انسان کی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں اسپرچول تہذیب کا اجتماعی تسلسل عملاً ناممکن ہے، لیکن اسپرچول تہذیب کا انفرادی تسلسل پوری طرح ممکن ہے اور بلاشبہہ وہ ہر دور میں اور ہر زمانے میں جاری رہا ہے۔ اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کے معاملے کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں آپ کے سامنے کی میز پر ایک ٹی وی سیٹ رکھا ہوا ہے۔ بظاہر کمرے میں صرف کچھ مادی چیزیں ہیں۔ مثلاً دیوار، کرسی، میز، وغیرہ۔ ان چیزوں کو آپ دیکھ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues