Al-Risala · October 2013 · page

سورہ الفاتحہ کا پیغام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، ساری تعریف تیرے لیے ہے اور ساری عظمت (glory) تیرے لیے۔ 2- ”وہ روز جزا کا مالک ہے“— روز جزا (Day of Judgement) کا مالک ہونا، خدا کے پورے تخلیقی منصوبے کو بتاتا ہے۔ یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ انسان کی تخلیق اتفاقی طور پر یا بے مقصد نہیں ہوئی ہے۔ وہ ایک اعلیٰ منصوبہ بند (well-planned) تخلیق ہے۔ اس منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ (testing ground) ہے۔ یہاں افراد کو ان کے ریکارڈ کے مطابق منتخب کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ایک وقت آئے گا، جب کہ موجودہ امتحانی دور حیات ختم ہو اور دوسرا دور حیات آئے، جہاں ہر انسان کے لیے اس کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

3- ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“— عبادت اور استعانت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ایک انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ اللہ کے آگے سرینڈر کر دیتا ہے۔ اس سرینڈر کا ایک پہلو عبادت ہے اور دوسرا پہلو استعانت۔ اپنے وجود کی سطح پر اس کا جو اظہار ہوتا ہے، اسی کا نام عبادت ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اللہ سے اس کا طالب بن جاتا ہے کہ وہ اس کو حقیقی فلاح عطا کرے۔ اسی کا نام استعانت باللہ ہے۔ 4- ”ہم کو سیدھے راستے پر چلا“— جب انسان کو حقیقت کی دریافت ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ افکار کے جنگل میں اپنے لیے ذاتی طور پر زندگی کا صحیح راستہ دریافت کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ واقعہ اس کو متلاشی (seeker) بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس بات کا طالب بن جاتا ہے کہ خدا کی مدد سے وہ اپنے لیے صحیح نظریہ حیات (ideology of life) سے واقف ہو سکے۔ صحیح نظریہ حیات کی یہ طلب اس کو اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ دعا گو بنا دیتی ہے۔ اس طرح کی حقیقی دعا جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ اپنے آپ میں اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ خدا اس کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی عطا کرے۔

5- ”اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، اُن لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کا راستہ جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے“— مراد صراط مستقیم کا عملی ماڈل ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page