سورہ الفاتحہ کا پیغام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
یعنی وہ ہدایت یاب انسان جو اپنی زندگی میں ہدایت الہی کو عملاً اختیار کرلے اور اس طرح وہ دوسروں کے لیے ماڈل بن جائے۔ انعام کے اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ النساء کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69) یعنی جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔
قرآن کی اس آیت میں چار ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو اللہ کے انعام کے مستحق قرار پائے۔ وہ چار گروہ یہ ہیں۔ انبیا، صدیقین، شہدا، اور صالحین۔ یہ چار گروہ صراط مستقیم کے لیے عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان چاروں گروہ کی حیثیت یکساں نہیں۔ انبیا کو خدا کی طرف سے براہ راست رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے انبیا کی حیثیت اس معاملے میں اصلاً ہے، اور دوسرے گروہوں کی حیثیت تبعاً۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انبیا کی حیثیت اس معاملے میں مطلق طور پر ہے، اور دوسرے کی حیثیت اضافی طور پر۔ انبیا کو اُن کی وحی کی نسبت سے پہچانا ہے، جب کہ دوسرے گروہوں کو اس اعتبار سے کہ انھوں نے انبیا کا کامل اتباع کیا۔ گویا انبیا کو جانچنے کا معیار وحی الہی ہے، اور بقیہ دوسرے لوگوں کو جانچنے کا معیار اتباع رسول۔ مغضوب اور ضال دونوں ایک ہی کردار کے دو درجے ہیں۔ ضال سے مراد وہ انسان ہے جو سچائی کے راستے سے بھٹک گیا ہو۔ اور مغضوب سے مراد وہ انسان ہے جس کا بھٹکاؤ صرف بھٹکاؤ نہ ہو، بلکہ لمبی مدت کی کنڈیشننگ کے بعد وہ اپنے مسلک پر اتنا پختہ ہو جائے کہ اس کی واپسی کی امید باقی نہ رہے۔ (2012) پٹنہ (بہار) میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)
Mahatwana, Phulwarisharif Patna-601505, Bihar, Mob. 09308477841, 09852208744
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues