سورہ الفاتحہ کا پیغام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
وحدتِ ادیان کا نظریہ نجات کا دارومدار قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ اَمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصٰرَى وَالصُّبِئِيْنَ مَنْ اَمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ غم گین ہوں گے۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل گروہی نجات (group-wise salvation) کی نفی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں ہر پیغمبر کے نام پر نسلی گروہ بن جاتے ہیں۔ ہر نسلی گروہ اپنی فضیلت کا مدعی ہوتا ہے۔ وہ یہ عقیدہ بنا لیتا ہے کہ نجات صرف ہمارے گروہ کے لیے ہے، گروہ سے باہر کے افراد کے لیے نہیں۔ مبنی بر گروہ نجات کا یہ تصور تمام تر اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اسی خود ساختہ عقیدے کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نجات اُخروی کا تعلق ہر فرد کے اپنے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص نسلی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے۔
مثلاً یہود نے بعد کے دور میں یہ عقیدہ بنا لیا کہ وہ اللہ کا منتخب گروہ (chosen people) ہیں۔ نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو اس یہودی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ مسیحی لوگوں نے یہ عقیدہ بنایا کہ فرزندِ خدا (son of God) ان کے گناہوں کے لیے مصلوب ہو گئے، اس لیے نجات صرف اُن کے گروہ کا حق ہے۔ یہی معاملہ بعد کے دور میں خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ مسلمانوں نے خود ساختہ طور پر یہ عقیدہ بنا لیا کہ ہم خیر الامم ہیں، ہم اللہ کا خصوصی گروہ ہیں، نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو اس گروہ میں شامل ہو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان نسلی گروہ بندیوں کا نجات سے کوئی تعلق نہیں، نجات کا تعلق ہر فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues