سورہ الفاتحہ کا پیغام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی نجات کا مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ اس میں ایمان بالرسول اپنے آپ شامل ہے۔ جو شخص بھی آخرت کی نجات کا حریص ہو، وہ لازماً رسول کا مومن بن جائے گا، کیوں کہ رسول کے بغیر یہ جاننا ممکن نہیں کہ ایمان کیا ہے اور عمل صالح کیا۔ ختم نبوت کے بعد مستند رسول کی حیثیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے مطابق، ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ خاتم النبیین کے مستند ماڈل ہونے کی بات صرف عقیدے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ علمی اور عقلی اعتبار سے، پوری طرح قابل فہم بات ہے۔ بجائے خود یہ بات درست ہے کہ پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے اور انھوںنے انسان کو ایمان اور عمل صالح کی تلقین کی۔ اب آج کے لوگوں کے لیے ان پیغمبروں سے ہدایت لینے کا طریقہ کیا ہوگا، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے تاریخی استناد۔ اس معاملے میں آج کے انسان کے لیے صرف ایک راستہ ہے، وہ یہ کہ وہ تمام پیغمبروں کے ورثہ کو تاریخ کے معیار پر جانچے اور پھر جس پیغمبر کو وہ تاریخی طور پر مستند پائے، اس کو وہ اپنے رہنما کے طور پر اختیار کر لے۔ یہی اس معاملے میں صحیح علمی اور عقلی طریقہ ہے۔ اس معاملے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ تمام پیغمبروں میں ایک ہی پیغمبر ہیں جو تاریخی استناد کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور وہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وحدت ادیان وحدت ادیان ایک مشہور مذہبی نظریہ ہے۔ دنیا میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو اس نظریے پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مغربی دنیا کے مشہور اسکالر ڈبلو سی استھ (2000 .Wilfred Cantwell Smith, d) اور انڈیا کے مشہور ہندو عالم آچاریہ و نو با بھاوے (وفات: 1982)، وغیرہ۔ اس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کو ڈاکٹر بھگوان داس (وفات: 1958) نے طویل مدت کے مطالعے کے بعد تیار کیا ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
Essential Unity of All Religions by Dr. Bhagwan Das, Bombay (1990)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues