سورہ الفاتحہ کا پیغام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
وحدت ادیان ایک مستقل مذہبی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ تمام موجود مذاہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک ہیں۔ اُن میں جو فرق ہے، وہ اس کے ظاہری فارم (form) کے اعتبار سے ہے اور فارم کا یہ فرق اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ اس نظریے کے مطابق، تمام موجود مذاہب سچے ہیں۔ اُن میں سے جس مذہب کو بھی آدمی اختیار کرے، وہ اس کے لیے نجات (salvation) کا ذریعہ بن جائے گا، نجات کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں۔ جو لوگ وحدتِ ادیان کے اس نظریے کو مانتے ہیں، وہ عام طور پر اس کے حق میں دو دلیلیں دیتے ہیں۔ اُن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہی واحد نظریہ ہے جس کے ذریعے دنیا میں سماجی ہم آہنگی (social harmony) قائم کی جاسکتی ہے۔ اُن کے نزدیک مختلف گروہوں کے درمیان ٹکراؤ اور تشدد کا سبب مذہبی اختلاف ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، تمام مذاہب ایک ہیں تو مختلف گروہوں کے درمیان جاری رہنے والے ٹکراؤ اور تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اُن کی دوسری دلیل یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان اختلاف محض ظاہری ہے۔ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں۔ یہ دراصل ایک ہی ابدی سچائی ہے جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے۔ وحدت ادیان اور سماجی ہم آہنگی اس معاملے کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وحدت ادیان کے نظریے کا سماجی ہم آہنگی سے کوئی تعلق نہیں۔ بالفرض اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں، تب بھی لوگوں کے درمیان بہت سے اختلاف (differences) باقی رہیں گے اور دوبارہ یہ مسئلہ موجود رہے گا کہ لوگوں کو اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ سے کس طرح بچایا جائے۔ مثلاً تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگ مذہب کے نام پر ہوئی تھی۔ اس کے بعد پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ، دونوں ایسے اختلاف کی بنیاد پر ہوئیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ فرق واختلاف فطرت کا حصہ ہے۔ انسانی زندگی میں فرق واختلاف خود انسان کا پیدا کردہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر خود فطرت کے نظام کا حصہ ہے۔ ایک اسکالر نے درست طور پر کہا ہے کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے (Nature abhors uniformity)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues