Follow one and respect all.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے، بلکہ اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنا ہے۔ اس معاملے میں ہم کو جس فارمولے کی ضرورت ہے، وہ یہی ہے۔ جب فطری طور پر انسانوں کے درمیان اختلاف کو مٹانا ممکن نہ ہو تو ایسی کوئی تجویز صرف ایک رومانوی تخیل (romantic idea) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسئلے کا حل۔
اس معاملے کا واحد عملی حل یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے معاملات میں جو فارمولا اختیار کیا جاتا ہے، اُسی کو مذہبی اختلاف کے معاملے میں بھی اختیار کر لیا جائے۔ مثلاً ریاستوں کے درمیان سیاسی اختلاف کے معاملے میں بھی یہی فارمولا قابلِ عمل ہے۔ قرآن میں اِسی فارمولے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لكم دينكم ولي دين (109:6) یعنی تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ اس فارمولے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اپنی دریافت کے مطابق، ایک دین کی پیروی کرو اور دوسروں کا احترام کرو:
Follow one and respect all.
دوسری بات یہ کہ مذاہب کے درمیان فرق واختلاف کوئی برائی (evil) نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقت ایک رحمت (blessing) کی ہے۔ اِسی فرق واختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہو اور اس طرح نئے نئے پہلو واضح ہوتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق واختلاف ایک فکری چیلنج (intellectual challenge) ہے اور فکری چیلنج ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی کے الفاظ میں چیلنج اور جواب چیلنج کا عمل (challenge-response-mechanism) ہی وہ واحد عمل ہے جس سے تمام ترقیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اگر یہ عمل باقی نہ رہے تو ترقیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ امرا واقعہ اور وحدت ادیان وحدتِ ادیان کا نظریہ سچائی (truth) کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر متلاشی حق (truth-seeker) ہے۔ ہر عورت اور مرد کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ سچائی کو جانے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ یہ دراصل سچائی کی دریافت ہے جو کسی انسان کو اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues