Al-Risala · October 2013 · page

Follow one and respect all.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

قابل بناتی ہے کہ وہ اس دنیا میں یقین (conviction) پر کھڑا ہو۔ یہ احساس کہ میں نے آخری سچائی کو دریافت کر لیا ہے، یہی اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو عورت یا مرد اس احساس سے خالی ہوں کہ میں نے سچائی (truth) کو دریافت کر لیا ہے، ان کی حیثیت بلا شبہ صرف ایک حیوان کی ہے، ایسا آدمی حقیقی معنوں میں، انسان کے درجے تک نہیں پہنچا۔ زندگی ایک مشکل امتحان ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو مختلف قسم کے ناموافق حالات میں جینا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو ایک یقین درکار ہے جس کے اوپر وہ کھڑا ہو سکے۔ یہ یقین کسی مادی یافت (material gain) کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس محدود دنیا میں مادی یافت ہمیشہ نا تمام ہوتی ہے اور نا تمام یافت کسی انسان کو لازوال یقین نہیں دے سکتی۔

اس محدود دنیا میں صرف ایک چیز ہے جو لا محدود ہے اور وہ سچائی (truth) ہے۔ سچائی کا تصور ایک ناقابلِ تقسیم تصور ہے۔ سچائی اپنے آپ میں کمال کو چاہتی ہے۔ جس سچائی کے ساتھ کمال کا تصور موجود نہ ہو، وہ بلا شبہ سچائی نہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، اس احساس میں جینا چاہتا ہے کہ میں نے اعلیٰ سچائی کو پالیا ہے۔ ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو انسان کی فطرت سے ٹکراتا ہے، اور یہی ٹکراؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تصور درست نہیں۔ تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں۔ ایک غیر سائنٹفک نظریہ ہے۔ کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اس قسم کا بیان دے۔ جو شخص ایسا کہے، اُس سے فطری طور پر یہ سوال کیا جائے گا کہ تم کس حق کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مذاہب کے بارے میں کوئی بیان آدمی صرف اپنی ذات کی نسبت سے دے سکتا ہے، دوسرے کی نسبت سے نہیں۔

وحدتِ ادیان کے تصور کے تجزیہ کے دو خاص پہلو ہیں۔ ایک، یہ کہ اصولی یا نظری طور پر یہ تصور مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا اس طرح دنیا میں سماجی امن (social peace) آسکتا ہے کہ تمام ادیان کو ایک مان لیا جائے۔

جہاں تک اس معاملے کے اولین پہلو کا تعلق ہے، عملی طور پر یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ تمام

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page