Al-Risala · October 2013 · page

تاریخِ اسلام: ایک مطالعہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

اس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبَّنَآ اِنِّيۡ اَسۡكَنۡتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيۡ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيۡ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37)۔ اس صحرائی ماحول میں لمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیار ہوئی۔ اسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اسی قوم کے اندر کام کر کے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔

یہ پورا معاملہ ایک خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا۔ مکہ میں مقدس کعبہ کی تعمیر اسی منصوبے کا ایک حصہ تھی۔ بعد کو سارے عرب میں شرک پھیل گیا۔ یہ قبائلی دور تھا۔ ہر قبیلے کا ایک الگ بت تھا۔ چناں چہ یہاں ایسے اسباب پیش آئے کہ کعبہ 360 بتوں کا مرکز بن گیا۔ یہ قدیم تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اس سبب سے یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی اشاعت کے لیے سارے عرب میں سفر نہ کرنا پڑے، بلکہ مکہ ہی میں آپ کو تمام قبائل کے نمائندے حاصل ہو جائیں۔ کیوں کہ کعبہ میں تمام قبائل کے بتوں کی موجودگی کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ مکہ میں مسلسل طور پر وہ چیز ہوتی رہتی تھی جس کو آج کل کی زبان میں گلِ عرب اجتماع (all Arab assembly) کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد بار بار ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کر سکیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجیے۔ غزوہ بدر کی نسبت سے، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَوْ يَكْبِتَهُمْ (3:127) یعنی تاکہ اللہ اہلِ کفر کے ایک حصے کو کاٹ لے یا وہ اُن کو ذلیل کر دے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں ”طَرَف“ کا لفظ حصۂ بہتر (better part) کے معنی میں ہے، یعنی اہلِ کفر کے بہتر حصے کو کاٹ کر جدا کر دینا اور ’يكبتهَم‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بقیہ حصہ کو ہلاک کر کے ختم کر دینا۔ ٹھیک یہی واقعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ پہلے کی دور کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page