عرب کا اسلامائزیشن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے دوران مکہ کے صالح افراد کو ایمان کی توفیق ملی اور وہ اسلام قبول کر کے پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے۔ قطع طرف کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر حضرت خالد بن الولید نے ان الفاظ میں کیا تھا: دخل الناس فی الإسلام، فلم يبق أحد به طعم (البيهقي : یعنی مکہ کے بہترین افراد اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اب مکہ میں کوئی باذوق آدمی (man of taste) باقی نہیں رہا۔ یکبتہم کا لفظی مطلب ہے ذلیل کرنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مکہ کے مخالفین جو چڑھائی کر کے ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ آئے تھے، اُن کے 70 طاقت ور افراد قتل ہو گئے اور اُن کو ذلیل وخوار ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔
عرب کا اسلامائزیشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جو کامیابی حاصل ہوئی، اس میں ایک بڑا دخل اُس واقعے کا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انوکھی تدبیر تھی جس کو پوری تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک اجتہادی تدبیر تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ یہ زمانہ جارحانہ شرک اور مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا زمانہ تھا۔ اس بنا پر وہاں فریق ثانی کی طرف سے مسلسل طور پر ٹکراؤ اور جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح کے ماحول میں دعوت توحید کا کام پوری طرح نہیں ہو سکتا تھا۔ توحید کی آئڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی ، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے۔
اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی۔ وہ تدبیر یہ تھی کہ فریق ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان لیا جائے، تا کہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہو جائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت توحید کا کام انجام پا سکے۔ یہ تدبیر بلاشبہ ایک عظیم تدبیر تھی، اسی لیے اُس کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues