Al-Risala · October 2013 · page

عرب کا اسلامائزیشن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

صلح حدیبیہ کی اس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے۔ ایک ، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدان جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں کرتا۔ صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل اور فطرت کے میدان میں ہونے لگا، اور جب عقل اور فطرت کے میدان میں مقابلہ ہو تو توحید کی آئیڈیالوجی ہمیشہ غالب رہے گی۔ وہ عقل کو ایڈریس کرے گی اور انسان کی فطرت مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ اسی کا یہ نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ صرف تعداد ہی مکہ کی پرامن فتح کے لیے کافی ہو گئی۔

صلح حدیبیہ کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قریش مکہ کی طرف سے جنگ کا خطرہ باقی نہیں رہا۔ اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے مشن کو پورے عرب میں پھیلا سکیں۔ اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ پیغمبر اسلام کا دعوتی پیغام تمام عرب قبائل میں پھیل گیا تھا۔ عمومی طور پر لوگوں کے دلوں میں توحید کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو چکا تھا، لیکن قریش سے حالت جنگ قائم ہونے کی بنا پر پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ آپ کھلے طور پر اس دعوتی امکان کو استعمال کریں۔ اب آپ نے یہ کیا کہ مدینہ سے تمام عرب قبائل کی طرف وفود بھیجنے شروع کیے۔ وفود کا یہ طریقہ بھی قدیم زمانے میں ایک نیا طریقہ تھا۔ یہ طریقہ کامیاب ہوا اور بہت کم مدت میں پورا عرب اسلامائز ہو گیا۔ پیغمبر اسلام کا مشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی لمبی تاریخ کی ایک درمیانی کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ سے پہلے کثیر تعداد میں خدا کے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے زمانے میں بلاشبہ توحید کا فکری اظہار ہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر عملاً کوئی فکری انقلاب برپانہ ہو سکا۔ اسی بنا پر پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین محفوظ بھی نہ رہا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے اللہ نے ایک نئی منصوبہ بندی کی۔ وہ منصوبہ بندی یہ تھی کہ صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جس کے افراد

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page