اہل مغرب کے ذریعے تائید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
عمارت میں رکھ دیے ۔ اس طرح دھیرے دھیرے کعبہ تمام عرب قبائل کا ایک عبادتی مرکز بن گیا ۔ ہر قبیلے کے لوگ اپنے بت کی زیارت اور پرستش کے لیے مکہ آنے لگے۔ اس طرح مکہ نے تمام عرب قبائل کے لیے مقام اجتماع کی حیثیت اختیار کرلی۔ تمام عرب قبائل کے لوگ مسلسل طور پر مکہ آنے لگے۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل میں اپنا مشن پھیلا سکیں ۔ قریش اُس وقت ایک مشرک قبیلے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اُن سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے موحدانہ مشن کی تائید کا کام لیا۔
اہل مغرب کے ذریعے تائید
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں غیر اہل ایمان کی تائید کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ یہ اہل مغرب کے ذریعے تائید فراہم کرنے کا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ مغرب کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیش آیا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دیں ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کو یہ اشیاء ضرورت صرف محدود طور پر حاصل ہوئی تھیں۔ جو چیزیں دنیا میں فطری طور پر آغاز تخلیق سے پائی جاتی تھیں، صرف اُن چیزوں تک انسان کی رسائی ہوسکی۔ مثلاً سواری کے لیے گھوڑا، وغیرہ۔ دوسری چیزیں وہ تھیں جن کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کی دریافت ضروری تھی۔ قدیم زمانے میں انسان اس ٹیکنالوجی کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے وہ اس دوسری قسم کی اشیاء ضرورت کو حاصل کرنے سے محروم رہا۔
ٹیکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمار نئی چیزیں انسان کے لیے قابل حصول ہوگئیں۔ یہ اشیاء ضرورت صرف اشیاء ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کا مشن سارے اہل عالم کے لیے ہے (25:1)۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues