Al-Risala · October 2013 · page

اہل مغرب کے ذریعے تائید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

لیکن پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہو سکا۔ کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونیکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونیکیشن وجود میں نہیں آیا تھا۔ عالمی کمیونیکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہل مغرب نے دریافت کیے۔ یہ اہل مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا۔

اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی ہیں۔ یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیے تبیین حق کا ذریعہ بنیں گی۔ یہ گویا کائناتی سطح پر اعلیٰ معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا ظہور نہ ہو سکا۔ اس کا ظہور پہلی بار موجودہ زمانے میں اہل مغرب کی سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہوا۔ یہ بھی غیر اہل ایمان کی طرف سے پیغمبر اسلام کے مشن کی تائید کا ایک اہم معاملہ تھا۔

یہ خارجی تائید اپنے طریقے کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ پیغمبرانہ مشن کے لیے یہ خارجی تائید کوئی اتفاقی معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ تھا جو اللہ کی طرف سے پیشگی طور پر مقدر کر دیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3062)۔ اس حدیث میں موید کے لیے فاجر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فاجر کا مطلب ہے— بدکردار (sinner)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبر کے مشن کی خارجی تائید کا جو کام ہے، وہ صرف مخلصین اور مومنین کے ذریعے نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایسے افراد کے ذریعے بھی ہوگا جو اخلاقی اعتبار سے بدکردار اور گناہ گار ہوں گے۔ مذکورہ دونوں واقعات پیغمبرانہ مشن کے لیے عظیم تائیدی واقعات تھے، مگر یہ دونوں واقعات اہل ایمان کی تائید سے پیش نہیں آئے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پیش آئے جو فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "مشرک اور فاجر" تھے۔ فاجر شخص کے ذریعے تائیدِ دین کے یہ واقعات صرف تائید کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ وہ دلیل نبوت بھی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page