اہل مغرب اور مغربی تہذیب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
اہل مغرب اور مغربی تہذیب
موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے ہزاروں کی تعداد میں ایسی کتابیں اور مقالات شائع کیے ہیں جن کا موضوع اہل مغرب یا مغربی تہذیب ہوتا ہے۔ اس قسم کی تحریریں عربی، اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں چھپی ہیں اور اُن کو کسی بھی مسلم کتب خانے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر چند کتابوں کے نام یہ ہیں :
جاهلية القرن العشرين، محمد قطب، دار الشروق، القاهرة 1993، عدد الصفحات: 292 عالم اسلام دجالی تہذیب کی زد میں، محمد موسی بھٹو، سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، صفحات: 188 Islam at the Crossroads, Leopold Muhammad Asad اس قسم کی کتابوں میں مغرب اور مغربی تہذیب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ تمام تر منفی تصویر ہے۔ اس قسم کی کتابوں کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ مغرب اخلاقی پستی کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ ان تحریروں کے مطابق، مغرب نام ہے ۔ مادیت اور اباحیت اور ہوس پرستی اور لادینیت کا۔ گویا اہل مغرب کا کیس وہی ہے جس کو حدیث میں 'الرجل الفاجر کہا گیا ہے، یعنی بدکردار اور گناہ گار۔ اب بالفرض اگر یہ درست ہو کہ اہل مغرب کا کیس 'فاجر‘ انسان کا کیس ہے، تب بھی مسلم مقررین اور محررین اس معاملے میں کامل طور پر غلط قرار پائیں گے۔ کیوں کہ اس معاملے کا دوسرا معلوم پہلو یہ ہے کہ یہی اہل مغرب ہیں جنھوں نے بے پناہ محنت کے بعد اُن تمام تائیدی چیزوں کو دریافت (discover) کیا جن کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن میں کیا گیا تھا۔ گویا کہ یہی وہ موید لوگ ہیں جو حدیث کی مذکورہ پیشین گوئی کا مصداق ہیں۔ ایسی حالت میں مسلم مقررین اور محررین کا فرض تھا کہ وہ کہتے کہ اہل مغرب کے 'فاجر‘ ہونے کے باوجود ہمیں اُن کے اس کنٹری بیوشن کا اعتراف کرنا ہے، کیوں کہ یہی لوگ ہیں جنھوں نے تائید دین کے وہ تمام اسباب مہیا کیے ہیں جو آج ہمارے لیے دین خداوندی کی نسبت سے بے حد ضروری ہیں۔ یہ اسباب ہمارے لیے شکر اور معرفت کا اعلیٰ آئٹم ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues