اہل مغرب اور مغربی تہذیب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
(All Arab Assembly) کا وقوع ممکن ہو جانا۔
3۔ یمن کے حاکم ابرہہ کا کعبہ پر حملہ، مگر اس کی ناکامی کی بنا پر کعبہ کی اجتماعی حیثیت کا محفوظ رہنا۔ 4۔ مکہ میں تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے ذریعے تمام صالح افراد کا اسلام میں داخل ہو جانا۔ اُنھیں منتخب افراد کو قرآن میں خیر امت (3:110) کہا گیا ہے۔
5۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہ بدر کا پیش آنا اور اس غزوہ میں فرشتوں کی مدد کے ذریعہ تمام سرکش افراد کا قتل کیا جانا۔
6۔ ہجرت سے پانچ سال پہلے جنگ بُعاث میں دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہونا، اس جنگ میں قبائلی سرداروں کا زور ٹوٹ جانا۔
7۔ حدیبیہ (6 ہجری) کی یک طرفہ صلح کے بعد سارے عرب میں امن قائم ہونا اور سارے عرب میں اسلام کی اشاعت۔
8۔ فتح مکہ کے بعد عرب قبائل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ پیدا ہونا، اس کے بعد عام الوفود کے ذریعے تمام قبائل کو تیزی سے اسلام میں داخل کر لینا۔
9۔ بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان جنگی ٹکراؤ ہونا اور اس دو طرفہ جنگ میں دونوں کا آخری حد تک کمزور ہو جانا۔
10۔ صلیبی جنگوں کے بعد مخصوص اسباب کے تحت، اہلِ مغرب کا سائنسی مطالعے کی طرف راغب ہونا اور اسلام کے موافق فطرت کے حقائق کا انکشاف۔
اوپر دس ایسے عوامل (factors) کو دکھایا گیا ہے جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں سپورٹنگ فیکٹرس (supporting factors) کا رول انجام دیا۔ یہ تمام اسباب غیر عادی (unusual) قسم کے تھے جو بلاشبہہ پیغمبر کے اپنے اختیار سے باہر تھے، حتی کہ بظاہر پیغمبر اسلام نے ان کی بابت سوچا بھی نہ تھا۔ ان عوامل کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے مشن میں ایسی غیر معمولی کامیابی حاصل کر سکیں۔ یہ ناقابل توجیہہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues