نورِ ہدایت کا اتمام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
اپنے مشن میں اللہ کی خصوصی مدد حاصل تھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تین مرحلے تھے ۔ پہلا مرحلہ مردان کار یا ٹیم کی تیاری کا مرحلہ تھا۔ یہ پہلا مرحلہ آپ کی پیدائش سے پہلے لمبی مدت میں بنواسماعیل کی صورت میں تشکیل پایا۔ دوسرا مرحلہ مختصر مرحلہ ہے جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی زندگی میں پورا ہوا۔ تیسرا مرحلہ دوبارہ لمبی مدت کا مرحلہ تھا جو کہ مغربی تہذیب کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔
نورِ ہدایت کا اتمام
پیغمبرانہ مشن کے سلسلے میں ایک منصوبہ الہی کو اظہارِ دین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اظہارِ دین اور اتمامِ نور کی آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے۔ سورۃ الصف کے الفاظ یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کا اتمام کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اُس کو سب دینوں پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اس آیت میں اظہارِ دین سے کچھ لوگ سیاسی غلبہ مراد لیتے ہیں، مگر آیت کے الفاظ سے اس مفہوم کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ ليظهره علی الدين كله ہے، نہ کہ ليظهره علی الأرض کلّہا یعنی اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے، وہ زمین پر ہونے والا غلبہ نہیں ہے، بلکہ وہ دین یا ادیان پر ہونے والا غلبہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے مراد فکری اور نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ سیاسی اور حکومتی غلبہ۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد غلبہ بہ مقابلہ آئیڈیالوجی ہے، نہ کہ غلبہ بہ مقابلہ سیاسی اقتدار۔ اسی طرح قرآن کی مذکورہ آیت میں متم نورہ کا لفظ آیا ہے۔ قرآن میں متم حُکمہ‘ کا لفظ نہیں آیا ہے، یعنی اس سے مراد نور کا اتمام ہے، نہ کہ حکومت کا اتمام۔ اس اتمام کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی مسلمانوں کی حکومت مکہ مدینہ میں قائم ہوئی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues