Al-Risala · October 2013 · page

نورِ ہدایت کا اتمام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

ہے، آئندہ ان کی حکومت سارے عالم میں قائم ہو جائے گی۔

پیغمبر کا مشن اصلاً غیر سیاسی مشن (non-political mission) ہوتا ہے۔ پیغمبر کے مشن کو بتانے کے لیے قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں سے کوئی بھی لفظ سیاسی لفظ نہیں۔ مثلاً انذار، تبشیر، ابلاغ، دعوت، شہادت، وغیرہ۔ ایسی حالت میں پیغمبر کے مشن کے اظہار یا اتمام کو بتانے کے لیے وہی تعبیر درست ہو سکتی ہے جو پیغمبرانہ مشن کی روح کے مطابق ہو، اور وہ بلاشبہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے عالمی سطح پر خدا کے پیغام کی توسیع واشاعت۔

پیغمبر کے مشن کی سیاسی تعبیر کرنا یا اس کو حکومت کی اصطلاحات میں بیان کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی تردید کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات (equation) ہے، وہ حاکم اور محکوم کی مساوات ہے، جب کہ صحیح تصور کے مطابق، اہل ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات ہے، وہ داعی اور مدعو کی مساوات ہے، نہ کہ حاکم اور محکوم کی مساوات۔ اس تصور کے مطابق، پیغمبر کے مشن کا اظہار اور اتمام بہ اعتبار "نور" متعین کیا جائے گا، نہ کہ بہ اعتبار حکومت، اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر کے مشن کے ساتھ ایسے اسباب و وسائل جمع ہوں جو پیغمبر کے مشن کی عمومی اشاعت میں تائید کا کام دیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبرانہ مشن کی اشاعت کے لیے صرف روایتی وسائل موجود تھے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ اگرچہ پیغمبر کا مشن ایک عالمی مشن تھا، لیکن وہ وسائل کی محدودیت کی بنا پر اپنے ابتدائی دور میں پورے عالم تک پہنچ نہ سکا۔

قرآن کی مذکورہ آیت (61:8) ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے۔ اس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا کرے گا، جب کہ تبلیغ قرآن کا عالمی نشانہ پورا کیا جاسکے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اس کے ذریعے دراصل تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرنا تھا۔ یہ پراسس نہایت طاقت ور صورت میں جاری ہوا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا۔

موجودہ زمانے کو آج آف کمیونیکیشن (age of communication) کہا جاتا ہے۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page