Al-Risala · October 2013 · page

ربانی تہذیب کا ظہور

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

آج آف کمیونیکیشن کیا ہے۔ یہ دراصل دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ ٹیکنالوجی کے دور میں پہنچانا ہے۔ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کے جو ذرائع پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ کمیونیکیشن کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کی اشاعت عالمی سطح پر انجام دی جائے۔ جدید ٹیکنالوجی اور دوسرے معاون حالات کے نتیجے میں آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی سیاسی اقتدار یا کسی پوٹیکل ایمپائر کے بغیر غیر سیاسی دائرے میں اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر قائم کیا جاسکے۔ اس ایمپائر کو غیر سیاسی دعوہ ایمپائر (non-political dawah empire) کہا جا سکتا ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے عالمی دعوت کی اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔

ربانی تہذیب کا ظہور

رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، وہ محدود طور پر صرف ایک سیاسی واقعہ نہ تھا۔ اُس کا تعلق پوری تاریخ بشری سے تھا۔ جس چیز کو قرآن میں ”اتمام نور‘‘ کہا گیا ہے، وہ دوسرے لفظوں میں تہذیب ربانی (divine civilization) کو قائم کرنے کا معاملہ تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اس کی کتاب (قرآن) محفوظ ہو جائے۔ تاریخ میں ایسے انقلابات ظہور میں آئیں جن کے نتیجے میں دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آئے۔ فطرت میں چھپے ہوئے راز منکشَف ہوں، تاکہ انسان کو علمی سطح پر خالق کی معرفت حاصل ہو۔ کمیونیکیشن کے ذرائع دریافت ہو کر انسان کے استعمال میں آسکیں۔ اسی طرح یہ ہو کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے۔ دین حق کی عالمی اشاعت ممکن ہو جائے۔ معرفت کے تمام چھپے ہوئے خزانوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو جائے، وغیرہ۔

اس پورے معاملے کو تہذیب ربانی کے ظہور سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے یہی انقلابی واقعہ پیش آیا اور فطرت کے قانون کے مطابق، مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی تک پہنچا جو اس کی تکمیل کا مرحلہ ہے۔ تاہم تکمیل کا یہ مرحلہ بہ اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page