Al-Risala · October 2013 · page

شکایت بے فائدہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کی آدمی کو شانتی والا جیون حاصل ہو جاتا ہے اور وہ خدا کو پا لیتا ہے۔ ‘‘ 8۔ سہارن پور کے پیس ہال میں 28 جولائی 2013 کو افطار کا ایک پروگرام ہوا۔ اس موقع پر شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔ یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 9۔ نونڈا کے فلم سٹی (Time Centre) میں 31 جولائی 2013 کو گوگل ویبینار (The Google Webinar) گروپ نے آرگن ڈونیشن (Organ Donation Seminar) کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ یہاں سی پی ایس کی طرف سے، لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ (https://www.speakingtree.in/events/organ-donation-seminar-23003)

10۔ یکم اگست 2013 کو سویڈن کی اُمیایونیورسٹی (Umea University, Sweden) میں نفسیات کے پروفیسر تھامس لندگرین (Tomas Lindgren) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اسلام اور امن کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ پروفیسر تھامس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: I’m writing a book right now about religion, nonviolence and peace building, based on interviews with peace activists in South and Southeast Asia, I’m deeply impressed by your publications and the work you have done, I would like to know so much more about your ideas, visions and the work you have done over the years. 11۔ نئی دہلی کے ہوٹل شنگریلا (Shangri-La) میں 14 اگست 2013 کو ایک انٹرنیشنل پروگرام (Health Skill Summit) ہوا۔ اس کی دعوت پر ڈاکٹر محمد اسلم خاں (سہارن پور) نے اس میں شرکت کی اور گڈ ورڈ بکس سے خرید کر یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ 12۔ نئی دہلی کے ادارہ ‘مانو درشن انوسندھان’ کی طرف سے، دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کے آڈیٹوریم میں 15 اگست 2013 کو ایک سمپوزیم ہوا۔ اس سمپوزیم کا موضوع یہ تھا:

’بھارت کا وبھا جن اور پاکستان کا استیتو‘ (ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا وجود) اس کی دعوت پر سی پی ایس انٹرنیشنل کی طرف سے مولانا محمد ذکوان ندوی نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر طرح کے فساد کی جڑ نفرت ہے، خواہ وہ کوئی ملکی معاملہ ہو یا بین اقوامی معاملہ۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک نظریاتی بات نہیں ہے، بلکہ امن کی آئڈیالوجی پر مبنی سی پی ایس کے لٹریچر کی بنیاد پر، دوسرے ملکوں کے علاوہ، خود کشمیر اور پاکستان کے بے شمار افراد کے اندر مثبت اور تعمیری ذہن پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگ ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر، مثبت ذہن کے تحت، اپنے ملک کو تعمیر وترقی کے میدان میں آگے بڑھائیں۔ اس سمپوزیم میں دو اسپیکر اور تھے۔ اُن کے نام یہ ہیں: مسٹر روی شنکر پرشاد

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page