اجتہاد کی اہمیت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
ویٹیکن کی صورت میں ایک محدود مسیحی ریاست کا یہ قیام 1929 میں پیش آیا۔ یہ معاملہ مسیحی پوپ اور حکومت اٹلی کے درمیان ایک معاہدہ کے ذریعے انجام پایا۔ اس معاملے کو لیٹران معاملہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر حکومت اٹلی کی طرف سے اُس وقت کے پریمیر (premier) مسولینی (Benito Mussolini) نے دستخط کئے تھے، اور مسیحی چرچ کی طرف سے کارڈینال گا سپیری (Cardinal Gasparri) نے اپنے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے مسیحی چرچ نے اپنی حیثیت کو بدستور برقرار رکھا۔ یہ بلاشبہ ایک دانش مندانہ تدبیر تھی جو اُسی قسم کے ایک تخلیقی فکر پر مبنی تھی جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اس قسم کا اجتہاد نہ کر سکے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں انھوں نے صرف ناکامی کی تاریخ بنائی، وہ کامیابی کی تاریخ نہ بنا سکے۔ موجودہ زمانے میں اسی قسم کے فرقان کا ایک واقعہ سیکولر اعتبار سے پیش آیا۔ اس واقعے کا تعلق چین (China) سے ہے۔ چین میں 1919 سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اپنے نظریے کے مطابق، وہاں اسٹیٹ اکانمی (state economy) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ اس نظام کے تحت چین کی اقتصادی ترقی رک گئی۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک رکن ڈینگ زیو پنگ (Deng Xiaoping) تھا۔
پہلے اس نے روس میں تعلیم پائی۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے فرانس گیا۔ فرانس کے قیام کے دوران اُس نے دیکھا کہ فرانس میں اقتصادی ترقی ہو رہی ہے، لیکن چین اُس قسم کی ترقی سے محروم ہے۔ فرانس سے واپسی کے بعد ڈینگ زیو پنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا چیر مین بن گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک انقلابی کام کیا۔ اس نے چین میں سیاست اور اقتصادیات کے درمیان علاحدگی کا اصول رائج کیا۔ اس نے یہ کیا کہ سیاسی اقتدار پر کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ باقی رکھتے ہوئے اقتصادیات کو مکمل طور پر آزاد کر دیا۔ اس دانش مندانہ تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں اقتصادی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔ آج یہ حال ہے کہ امریکا کے بعد چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکانمی سمجھا جاتا ہے۔ (2012)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues