دورِ آزادی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
جب کہ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے اقوام متحدہ (UNO) کی عالمی تنظیم وجود میں آئی۔ انسانی تاریخ میں آزادی کے دور کا آنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ گویا کہ تاریخ میں ایک شاہ ضرب (master stroke) کا معاملہ تھا جس کے نتیجے میں اُن تمام امکانیات کی انفولڈنگ (unfolding) شروع ہو گئی جس کو خالق نے انسان کے لیے مقدر کیا تھا۔
اس دور آزادی کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسانی زندگی میں آزادی کا وہ دور شروع ہوا جب کہ کھلے ماحول میں ہر عورت اور مرد کا امتحان (test) ممکن ہو سکے۔ اسی کے نتیجے میں دنیا کی سیاست میں سیکولرازم اور جمہوریت کا زمانہ آیا جس نے تاریخ میں پہلی بارمذہبی جبر کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ اسی کے بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان ہر قسم کے توہمات (superstitions) سے آزاد ہو کر فطرت کا مطالعہ کرے۔ اسی مطالعے کا نتیجہ سائنسی علوم کا ظہور تھا جس نے پہلی بار انسان کے لیے اعلیٰ معرفت (higher realization) کا دروازہ کھول دیا۔ اسی کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید مواصلات کی دریافت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار عالمی دعوت کو ممکن بنا دیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں آزادی کو خیر اعلیٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں آزادی کے ساتھ آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس بنا پر آزادی کی قدر و قیمت کو صرف اُس وقت سمجھا جا سکتا ہے، جب کہ لوگوں کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کے پہلو کو الگ کر کے اس کا مطالعہ کیا جائے۔ (2013)
ادارۂ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لیکچر حسب ذیل ویب سائٹ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں: http://www.meezan.tv
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues