اسلام اور جنگ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
اسلام اور جنگ
ایک حدیث رسول میں، قرآن کی بابت بتایا گیا ہے کہ: لکل آية منها ظهر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: (75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو سطور (lines) میں ہے اور دوسرا وہ ہے جو اس کے بین السطور میں پایا جاتا ہے۔ یہ حدیث اگرچہ قرآن کے بارے میں ہے، لیکن توسیعی مفہوم کے اعتبار سے حدیث رسول بھی اس میں شامل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور حدیث کے متن میں تفسیری اور تشریحی اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ اس اضافے کے بغیر، قرآن وحدیث کی معنویت واضح نہیں ہوتی۔
مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (30:41)۔ قرآن کی اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: "خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے۔ " مگر اس لفظی ترجمے سے آیت کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ آیت کے اصل مفہوم کو جاننے کے لیے اس میں یہ تشریحی اضافہ کرنا پڑے گا کہ ـ خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، اس لیے کہ لوگوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اسی طرح ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من قال لا إله إلا الله، دخل الجنة ۔ اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ جس شخص نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ حدیث کا یہ ترجمہ حدیث کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا۔ حدیث کے اصل مفہوم کو واضح کرنے کے لیے اس میں یہ اضافہ کرنا پڑے گا کہ ـــ جس شخص نے اس حقیقت کا اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے مطابق اس نے عمل کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جنگ کا مسئلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: إذا وضع السيف في أمتي، لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5، صفحہ (278)۔ اس حدیث کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues