کسی کی انا کو مت چھیڑیے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
سوال و جواب سوال مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس زوال وانحطاط کا منبع کہاں ہے۔ اصلاح احوال کی ہر کوشش کیوں ناکام ہوگئی۔ اور یہ سوال کہ اس زوال وانحطاط کے منبع کو بند کرنے کی تدبیر کیا ہونی چاہئے۔ کیا اس کا سب سے بنیادی سبب ہمارے بیچ کئی لاکھ حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دوسوسال بعد مرتب کی گئی ہے یا کوئی دوسری وجہ ہے، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (سید ثاقب علی ہاشمی، پٹنہ، بہار)
جواب
1- امت مسلمہ کا زوال کسی پر اسرار سبب کی بنا پر نہیں ہے۔ یہ ایک عام فطری قانون کی بنا پر ہے اور وہ وہی ہے جس کو ابن خلدون (وفات: 1406) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: للأقوام أعمار، كما للأفراد أعمار۔ جن گروہ کا کوئی نظریہ (ideology) نہ ہو، جس کا مقصد صرف کھانا کمانا ہو، اُس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ عام حالات میں زوال کا شکار نہ ہو، لیکن ایسا گروہ جو ایک نظریہ یا آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بنے، اُس کے لیے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بعد کی نسلوں میں نظریاتی ضعف آجاتا ہے۔ وہ ایک نظریاتی گروہ کے بجائے صرف ایک قومی گروہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اِسی حالت کا نام زوال ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اسلام بطور نظریہ یا اسپرٹ باقی نہیں رہا، اب وہ صرف ایک کلچر کے طور پر باقی ہے، جیسا کہ زوال یافتہ قوموں کے درمیان ہمیشہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ایک کلچرل گروپ کی حیثیت سے زندہ ہیں، نہ کہ ایک نظریاتی گروپ کی حیثیت سے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ’’خیر امت‘‘ موجود ہے اور اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues