Al-Risala · November 2013 · page

کسی کی انا کو مت چھیڑیے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے:

نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمه کم یابی حدی را تیز ترمی خواں چو محمل را گراں بینی احیاء امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) ہیں۔ اس اعتراف کے بعد آپ کو صحیح نقطہ آغاز مل جائے گا، یعنی لوگوں کے اندر سب سے پہلے ایمانی شعور پیدا کرنا۔ مزید یہ کہ اصلاح امت کا کام اصلاح افراد سے شروع ہوگا، اس طرح نہیں کہ مسلمانوں کی بھیڑ جمع کر کے اسٹیج سے اُن کے سامنے پرجوش تقریر کی جائے۔ یہ بھی صحیح آغاز نہیں کہ اسلام کے نام سے بڑے بڑے ادارے یا مسلم حکومتیں قائم کی جائیں۔ اس قسم کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دیمک زدہ لکڑی پر کوئی عمارت کھڑی کرنا۔ ایسا منصوبہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

بعض جماعتوں نے اصلاحِ ایمان کے نام سے تحریکیں چلائیں، لیکن اصل نشانے کے اعتبار سے وہ بھی ناکام ہو گئیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے فضائل کی کہانیاں سنا کر امت کو بیدار کرنا چاہا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے امانی (2:78) کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھایا جائے۔ مگر فضائل کی کہانیوں یا امانی کی داستانوں کے ذریعے کسی زوال یافتہ قوم کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا صحیح طریقہ وہ ہے جو کہ مبنی بر افراد ہو، نہ کہ مبنی بر قوم۔ اس طریقے کو قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپ قرآن کی سورہ الحدید کی آیت 17 کا مطالعہ کیجئے ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’قیادت نامہ‘‘، صفحہ: 183-180)۔ 2۔ حدیث کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ اُس کا کوئی تعلق زوال امت سے ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’تجدید دین‘‘، صفحہ 38-21) حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک امر فطری ہے، وہ ہمیشہ ہوگا، اختلافِ خالق کے تخلیقی منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page