Al-Risala · November 2013 · page

کسی کی انا کو مت چھیڑیے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

اختلاف کو ختم کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اختلاف کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ برداشت کی عدم موجودگی ہے۔ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا ہے کہ وہ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع نہیں بناتے، اختلاف پیش آتے ہی وہ برہم ہوجاتے ہیں، یہ برہمی اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ ٹکراؤ اور جنگ کی نوبت آ جاتی ہے۔ اگر آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے تو اختلاف کے خاتمے کی ناممکن الحصول کوشش نہ کیجئے، بلکہ اُن کے اندر برداشت اور تحمل کی صفت پیدا کیجئے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اختلاف ان کے لیے رحمت بن گیا ہے۔ اختلاف کو اگر ڈسکشن (discussion) کا موضوع بنایا جائے تو اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے اور اگر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اختلاف تو ختم نہ ہوگا، البتہ قوم برباد ہو کر رہ جائے گی۔ سوال میں ماہ نامہ الرسالہ کا ایک عرصہ دراز سے مستقل خریدار اور قاری ہوں۔ آپ کی تحریر کردہ بہت سی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ زکوۃ کے مصارف میں ”فی سبیل اللہ“ کی مد میں ”تملیک“ کے ذریعہ زکوۃ اور فطرہ وغیرہ کی رقم کا استعمال ایک عام بات ہوگئی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں آپ جیسا عالم دین ہی غیر جانبداری کے ساتھ ایک تحقیقی مقالہ یا کتاب اس موضوع پر تحریر کر سکتا ہے جس میں تملیک کی تعریف ، شرعی حیثیت ، ابتدا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں تملیک کی موجودگی اور اس پر عمل آوری جیسے سوالات کا تشفی بخش جواب تحریر ہو اور غیر جانبدارانہ تجزیہ بھی ہو۔ (اقبال حسین، اجین، مدھیہ پردیش) جواب زکات کے موضوع پر کافی لکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ کو تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دوں گا— زکات کا اجتماعی نظام (مولانا ابوالکلام آزاد)، فقہ الزکات (ڈاکٹر یوسف القرضاوی)، مسئلہ تملیک کی شرعی حیثیت (مولانا شہاب الدین ندوی)۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page