کسی کی انا کو مت چھیڑیے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
زکات کے معاملے میں ”لامِ تملیک“ کی بحث صرف ایک فنی بحث ہے، اس کی بنیاد قرآن اور حدیث کے کسی واضح حکم پر مبنی نہیں ہے۔ جن علما نے لامِ تملیک کا مسئلہ وضع کیا ہے، وہ اُن کا صرف ذاتی استنباط ہے اور استنباط کے معاملے میں ہمیشہ اختلاف کی گنجائش رہتی ہے۔ آپ کو یہ حق ہے کہ آپ چاہیں تو اس استنباط کو مانیں، یا اگر آپ کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود ہو تو آپ جائز طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ آپ اس استنباط کو نہ مانیں۔
خود ماہ نامہ الرسالہ میں اِس موضوع (زکات کا مسئلہ) پر ایک مضمون چھپ چکا ہے۔ آپ اس کو بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں (ماہ نامہ الرسالہ، جنوری 1997ء، صفحہ: 18-14)۔ سوال عرض ہے کہ میں نے جولائی 2013 کا الرساله ملاحظہ کیا۔ ہمیشہ کی طرح معنی خیز اور علمی باتوں سے مزین ہے اور ہمیشہ کی طرح کچھ نہ کچھ اختلافی باتیں ذہن میں کھٹک پیدا کرنے والی ہیں۔ آپ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ تحریک لوگوں کو نماز پر کھڑا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی اور بعد کو اس میں غلو اور تعصب آگیا (صفحہ: 15)۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ نے اس کا تعارف غلط پیش کیا ہے۔ مولانا الیاس کے بقول، وہ اس تحریک سے یہ چاہتے تھے کہ امت اُسی سطح پر آجائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر گئے تھے۔ یہ آپ کے قول کے برخلاف، ایک ہمہ گیر عنوان ہے جو اُسی فکر و منہج کے ساتھ اب تک چلا آتا ہے اور انشاء اللہ چلتا رہے گا۔ کچھ لوگوں کے ذاتی کردار کو کسی تحریک پر تبصرہ کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا، ٹھیک اُسی طرح جیسے کوئی مسلمانوں کے اعمال سے اسلام پر تبصرہ کرے۔ میں ایک سال کی جماعت سے حال ہی میں لوٹا ہوں، میں نے اس شجر کی کچھ شاخوں کو تو باغی ضرور پایا ہے، لیکن جڑیں معمولی تغیر کے ساتھ اب بھی مضبوط ہیں، اور اگر آپ کی نظر میں کوئی چیز غلط ہے تو اس کی وضاحت کریں۔ (عبد الحسیب، کیرانہ، یوپی) جواب تبلیغی جماعت کے بارے میں الرساله میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ کوئی ذاتی رائے نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues