کسی کی انا کو مت چھیڑیے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات: 2006) جو تبلیغ میں تیسرے ”حضرت جی“ کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ مبینہ طور پر کہتے تھے کہ تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ بیان کوئی مخفی بیان نہیں ہے، تبلیغ کے سبھی لوگ اس سے واقف ہیں۔
دوسری بات یہ کہ میں خود جماعت میں گیا ہوں۔ میں نے اپنے ذاتی تجربے میں یہی پایا ہے کہ ہر بار مسجد میں ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک ہی قسم کی کتاب پڑھ کر ہمیشہ سنائی جاتی ہے اور تقریر میں ہمیشہ تقریباً ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ میں نے الرسالہ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک واقعہ ہے، وہ کوئی ذاتی تبصرہ نہیں۔
غلو کی بات جو میں نے لکھی ہے، وہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے۔ مجھ سے بہت سے لوگوں نے یہ بات کہی کہ تبلیغی جماعت میں غلو کا مزاج آ گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں، وہ اس کے مخالف نہیں۔ غلو کیا چیز ہے۔ غلو دراصل جمود (stagnation) کا نام ہے اور یہ ظاہر ہ ہر تحریک میں بعد کو پیدا ہو جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت اس معاملے میں کوئی مستثنیٰ جماعت نہیں۔ آپ نے مولانا الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) کے جس ملفوظ کا ذکر کیا ہے، وہ ملفوظ بجائے خود درست ہو سکتا ہے، لیکن تحریکیں کسی ملفوظ پر نہیں چلتیں، تحریکوں کے ارتقا کے اپنے اسباب وعوامل (factors) ہوتے ہیں۔ یہی اسباب وعوامل ہیں جو تحریکوں کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ملفوظ۔
سوال
1980 کے شروع کا کوئی مہینہ ہوگا جب میں نے الرسالہ اور مولانا صاحب کی بعض تصانیف دیکھی تھیں ۔ پہلے میں نے الرسالہ کی ایک کاپی اٹھائی اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کر کے دیکھا تو اس میں اس وقت چند آیتوں کا ترجمہ اور تفسیر تھی جو میں نے پڑھی اور کافی پسند آئی، پھر میں نے وہ الرسالہ خرید لیا اور اس وقت سے لے کر آج تک الرسالہ خریدتا آ رہا ہوں اور بغور پڑھتا آ رہا ہوں۔ الرسالہ ہاتھ میں آنے کے بعد جب تک اس کو پڑھ کر مکمل نہ کرلوں، چین نہیں ملتا۔ الرسالہ کے ساتھ ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues