کسی کی انا کو مت چھیڑیے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
مولانا صاحب کی دیگر تصانیف میں سے %70 کتابیں بھی منگا کر پڑھ چکا ہوں ۔ اس وقت مطالعہ میں جو کتاب چل رہی ہے ، وہ ہے ’’کتاب معرفت‘‘ ۔ میری تعلیم بہت کم ہے ، لیکن الرسالہ کے مسلسل مطالعے سے جو میں نے اثرات قبول کئے ، وہ درج ذیل ہیں۔
1۔ سب سے پہلا الرساله پڑھ کر محسوس کیا کہ الرساله میرے احساس کی علمی پیاس بجھانے والا ایک ذریعہ ہے۔ الرسالہ کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے میں ہر دینی اجتماع میں شریک ہو کر دینی باتیں سنتا تھا ، مگر علمی ذوق تشنہ رہتا تھا۔ جب الرساله کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں بھی پڑھ لیں تو ایسا لگا کہ اب تلاش حق کا ذریعہ الرسالہ اور مولانا کی دیگر تصانیف ہیں۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے سے پہلے میرا ذہن بند تھا اور پھر محسوس ہوا کہ الرسالہ سے پہلے حق کی پکیڈنڈیوں پر چل رہا تھا اور اب شاہ راہ پر چلنے لگا ہوں۔ 2۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے پہلے میرے ذہن کی یہ حالت تھی کہ میں اگر کسی موضوع پر غور کرتا تو کچھ سوچنے کے بعد میرا ذہن آگے سوچنے سے رک جاتا تھا۔ اور ایک طرح کی پریشانی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن جب سے الرسالہ پڑھنا شروع کیا ، آہستہ آہستہ میرا ذہن کھلتا گیا اور کسی بھی بات پر غور کرنا آسان ہوتا گیا، یہاں تک کہ اب کوئی بھی بات یا مسئلہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ میں نے صرف الرساله پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ میں نے آپ کی دیگر تصانیف کا بھی مطالعہ کیا۔ جیسے ’’الاسلام‘‘، ’’تجدید دین‘‘ وغیرہ۔ 3۔ ہر ماہ کے الرسالہ کا انتظار رہتا ہے اور ملتے ہی پڑھنا شروع کر دیتا ہوں اور جب تک ختم نہ کرلوں ، چین نہیں ملتا۔ یہی حال باقی کتابوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
4۔ الرسالہ کے مطالعہ سے دین اور دنیا کی اہم معلومات حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ 5۔ الرساله کو مسلسل پڑھتے رہنے سے خود ایسا احساس ہوتا ہے کہ آپ خود بھی ڈگری یافتہ ہو گئے ہیں۔ جن حضرات نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی ہو ، وہ مولانا کا لٹریچر پڑھیں۔ 6۔ الرسالہ کے مطالعہ سے ذہن کا ارتقا ہوتا ہے۔ ذہن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور ہم خود ہی غور فکر کرنے لگتے ہیں۔
7۔ الرسالہ کے مسلسل پڑھتے رہنے سے آدمی اپنی گفتگو میں مثبت انداز اختیار کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues