قرآن اور حدیث کا تعلق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴
حوالہ دیا تھا۔ انھوں نے قرآن کو نیزے پر اٹھایا اور یہ نعرہ بلند کیا: حسبنا کتاب اللہ۔ قدیم زمانے کے خوارج آج کل کی اصطلاح میں ’’اہل قرآن‘‘ نہ تھے۔ انھوں نے حسبنا کتاب اللہ کا نعرہ حدیث کے مقابلے میں نہیں دیا تھا، وہ صرف اس معنی میں تھا کہ قرآن کی آیت: حَكَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا(4:35) (4:35) کے مطابق ، اس معاملے کو تحکیم کے اصول کے مطابق حل کیا جائے، یعنی ایک حکم (arbitrator) علی بن ابی طالب کے گروہ سے لیا جائے اور دوسرا حکم معاویہ بن ابی سفنیان کے گروہ سے لیا جائے ۔ اور یہ دونوں حکم باہمی گفت و شنید سے جو فیصلہ دیں، اس کو دونوں گروہ مان لیں۔ چناں چہ تاریخ بتاتی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری اور عمروبن العاص حکم کے طور پر مقرر کئے گئے اور اس کے مطابق فیصلے کا اعلان کیا گیا۔
قرآن اور حدیث کا تعلق
یہ ایک حقیقت ہے کہ دین اسلام کا مستند ماخذ قرآن بھی ہے اور حدیث (سنت) بھی۔ قرآن سے مراد وہ مجموعہ ہے جو وحی کی بنیاد پر مرتب ہوا اور جس کے اندر 114 سورتیں ہیں۔ سنتِ رسول فی تعریف (definition) کے مطابق ، تین چیزوں کا نام ہے — قول، عمل، اور تقریر۔ قول سے مراد وہ الفاظ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مختلف مواقع پر ادا ہوئے ۔ عمل سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آپ نے خود کر کے دکھایا۔ تقریر سے مراد وہ چیز ہے جو آپ کے سامنے کی گئی اور آپ نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تائید فرمائی۔ انھیں دونوں چیزوں (قرآن اور سنت) کے مجموعے کا نام دینِ اسلام ہے۔ یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر اسلامی احکام کا ماخذ ہیں۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ اصولی طور پر قرآن میں دین کی اساسات بیان کی گئی ہے اور حدیث سے ہم کو دین کی تفصیلات کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اساسات اور تفصیلات کا یہ فرق بالکل فطری ہے۔ یہ فرق ہر جگہ موجود رہتا ہے، خواہ دینی علم کا معاملہ ہو، یا سیکولر علم کا معاملہ۔ مثال کے طور پر سائنس کے دو شعبے مانے جاتے ہیں — خالص سائنس (pure science)، اور انطباقی سائنس (applied science) ۔ یہی معاملہ اسلام کا ہے ۔ اسلام میں بھی ایک
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues