Al-Risala · December 2013 · page 5

غلط تقابل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۵

خالص اسلام (pure Islam) ہے، اور دوسرا انطباقی اسلام (applied Islam) ہے۔ اس تقسیم کو دین اور شریعت کے الفاظ میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے یا اُس پر عمل کرنے کے لیے اس کے دونوں پہلوؤں سے واقفیت یکساں طور پر ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں، جن سے اس معاملے کی نوعیت کا اندازہ ہوگا۔

غلط تقابل

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں، وہ دراصل ایک غلط تقابل (wrong comparision) کا شکار ہیں۔ جب وہ قرآن کا نام لیتے ہیں تو اُن کے ذہن میں وہ قرآن ہوتا ہے جو آج چھپا ہوا مجلد صورت میں اُن کے سامنے موجود ہے۔ اس کے برعکس، جب وہ حدیث کا ذکر کرتے ہیں تو اُس وقت اُن کے ذہن میں ابتدائی دور کی وہ تاریخ ہوتی ہے، جب کہ حدیث کا ذخیرہ منتشر صورت میں تھا اور اُس کو مدوّن صورت میں جمع کیا گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ کرتے ہیں کہ آج کے مطبوعہ قرآن کا تقابل، ماضی کے اُس ذخیرہ حدیث سے کرتے ہیں، جب کہ حدیثیں منتشر طور پر غیر مطبوعہ صورت میں موجود تھیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں کا تقابل قبل از تدوین حالت اور بعد از تدوین حالت سے کیا جائے، یعنی مطبوعہ قرآن کا تقابل، مطبوعہ حدیث سے کیا جائے اور اسی طرح غیر مطبوعہ قرآن کا تقابل، غیرہ مطبوعہ حدیث سے۔ تاریخ کے مطابق ، قرآن اور حدیث دونوں ہی پر دو مختلف دور گزرے ہیں، یعنی قبل از تدوین دور، اور بعد از تدوین دور۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ قبل از تدوین قرآن کا تقابل، قبل از تدوین حدیث سے کیا جائے، اور بعد از تدوین قرآن کا تقابل بعد از تدوین قرآن سے کیا جائے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس طرح کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں، اُن کے ساتھ عملاً یہی ہوتا ہے کہ وہ حدیث کا انکار کرنے والوں کا لٹریچر پڑھتے ہیں اور اس سے متاثر ہوجاتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مطالعے کی تکمیل کے لیے قرآن کی ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اگر ایسے لوگ دوطرفہ مطالعہ کریں تو وہ محسوس کریں گے کہ جس بنیاد پر وہ حدیث کے استناد کو رد کر رہے ہیں، اگر وہ بنیاد

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page