Al-Risala · December 2013 · page 6

حدیث کی تدوین

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۶

علمی طور پر درست ہے تو اسی بنیاد پر اُنھیں قرآن کے استناد کو بھی رد کرنا پڑے گا ۔ اُنھیں یا تو دونوں کو لینا ہے، یا دونوں کو رد کرنا ہے۔ مگر وہ اس معاملے میں تیسرا انتخاب (third option) لیے ہوئے ہیں، اور اس طرح کے معاملے میں کبھی تیسرا انتخاب درست نہیں ہوتا۔

حدیث کی تدوین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت حدیثیں زیادہ تر صحابہ کے حافظے میں تھیں۔ وہ مختلف مقامات پر ان کا چرچا کرتے رہے۔ اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کو یہ خیال ہوا کہ جس طرح قرآن کی تدوین ہوئی ہے، اسی طرح حدیث کی بھی تدوین کر دی جائے ۔ اس سلسلے میں صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: انظر ما كان من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكتبه، فإني خفت دروس العلم وذهاب العلماء (صحيح البخاري، رقم الحديث: (97) یعنی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک تابعی عالم ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھیلی ہوئی احادیث کو جمع کرو اور ان کو قید تحریر میں لاؤ۔ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ علم مٹ جائے اور علما باقی نہ رہیں۔ اسی طرح خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اُس زمانے کے ایک مشہور تابعی عالم محمد بن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) کو حدیث جمع کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح انھوں نے اسلامی ملکوں کے دوسرے حکام کو بھی ذخائر حدیث کے جمع و تدوین کا تاکیدی حکم بطور فرمان بھیجا۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز، اسلامی ریاست کے تحت، احادیث کو مدون کرنا چاہتے تھے، لیکن جلد ہی خلیفہ کی وفات ہوگئی اور یہ کام اُس وقت انجام نہ پاسکا۔ اس کے بعد عباسی خلافت کا زمانہ آیا ۔ اُس وقت علماءِ اسلام کی ایک بڑی جماعت نے بطور خود اس کام کو انجام دیا، جن کو محدثین کہا جاتا ہے۔

حفاظت قرآن، حفاظت حدیث

حفاظت قرآن کا طریقہ جو دور نبوت میں اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ جب قرآن کا کوئی حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا تو آپ اس کو بول کر لکھوا دیتے۔ اس کام کے لیے صحابہ میں کئی لوگ مقرر تھے جن کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page