Al-Risala · December 2013 · page 8

حفاظت قرآن، حفاظت حدیث

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۸

اس پورے ڈھیر کو اس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کا زمانہ آیا۔ اُس وقت بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر پورے قرآن کا مجموعہ تیار کر لیا تھا۔ یہ مجموعے بھی غالباً قدیم کاغذ پر لکھے گئے تھے۔ لیکن ان مجموعوں میں کئی قسم کے فرق پائے جاتے تھے۔ اس بنا پر، قرأتِ قرآن کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن کو پڑھتا، اور کوئی شخص دوسرے انداز سے۔ خلیفہ سوم نے اُس وقت ایسا کیا کہ خلیفہ اول کے زمانے میں قرآن کا جو مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر پر رکھا گیا تھا، اُس کو منگوایا اور کتابت کے ماہرین کی مدد سے اس کی بہت سی نقلیں تیار کروائیں۔ قرآن کے یہ نسخے بھی غالباً قدیم طرز کے کاغذ پر لکھے گئے تھے۔ پھر خلیفہ سوم نے قرآن کے ان مجلد نسخوں کو مسلم ممالک کے مختلف مرکزی شہروں میں بھیج دیا، جہاں اُن کو شہر کی جامع مسجدوں میں رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ اب جو شخص قرآن کی نقل تیار کرے، وہ اسی مستند نسخے سے قرآن کی نقل تیار کرےـ حضرت عثمان نے جب قرآن کے یہ مستند نسخے تیار کرائے تو اُس وقت دوبارہ یہ حالت تھی کہ بہت سے لوگوں کے پاس قرآن کے ایسے نسخے تھے جس کو انھوں نے بطور خود تیار کیا تھا۔ ان نسخوں میں فرق پایا جاتا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے خلیفہ سوم نے یہ کیا کہ انھوں نے تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر اُن کو صحابہ کی موجودگی میں جلا کر ختم کر دیا۔ اس طرح قرآن کے نسخے عہدِ صحابہ میں دو بار جلائے گئے۔ پہلی بار، خلیفہ اول کے زمانے میں قرآن کے متفرق اجزا جلائے گئے تھے۔ دوسری بار، خلیفہ سوم کے زمانے میں قرآن کی جلدیں صحابہ کے اتفاق رائے سے جلائی گئیں۔ اس معاملے کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو: تفسیر الجامع لأحكام القرآن للقرطبي کا دیباچہ (خطبة الكتاب)۔

اسلام کے دورِ اول میں خود صحابہ کے زمانے میں ایسا کیوں ہوا کہ قرآن کے اجزا، یا اس کے نسخے جلا کر ختم کر دئے گئے۔ اس کا ایک معلوم سبب تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کتابت کا جو طریقہ رائج تھا، اُس میں نقطہ اور اعراب (pronouncement) نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو اہلِ زبان تھے، وہ تو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page