حفاظت قرآن، حفاظت حدیث
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۹
ایسی عبارت کو نقطہ اور اعراب کے بغیر صحیح طور پر پڑھ لیتے تھے، جس طرح ایک شخص جس کی مادری زبان اردو ہو، وہ اردو کی موجودہ کتابوں کو درست طور پر پڑھ لے گا جن میں اعراب موجود نہیں ہوتا۔ اسلام جب تک اہل عرب تک محدود تھا، اُس وقت تک اس قسم کی تحریر کو پڑھنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا تھا۔ لیکن جب اسلام عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پھیلا تو یہ مسئلہ شدت کے ساتھ پیدا ہو گیا۔ اُس وقت قرآن کے جو نسخے ہوتے تھے، وہ نقطہ اور اعراب کے بغیر ہوتے تھے۔ غیر عرب لوگ حروف شناسی کے ذریعے عبارت کو پڑھنا سیکھ لیتے تھے، لیکن تلفظ کے معاملے میں وہ شدید غلطیاں کرتے تھے۔ اس غلطی کا ایک سبب یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل عربی حروف کا تلفظ مختلف انداز سے کرتے تھے۔ مثلاً عرب کا قبیلہ قیس ’ک‘ کی آواز کو ’ش‘ کی صورت میں نکالتا تھا۔ چناں چہ وہ قرآن کی آیت: جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (19:24) کو اس طرح پڑھنے لگا: جَعَلَ رَبُّشِ تَحْتَشِ سَرِيًّا۔ اسی طرح قبیلہ تمیم ’س‘ کی آواز کو ’ت‘ کی صورت میں ادا کرتا تھا۔ مثلاً وہ قرآن کی آیت: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کو قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاتِ کی صورت میں پڑھتا تھا۔ نقطہ اور اعراب کا مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین تھا۔ کیوں کہ غیر منقوط اور غیر معرب الفاظ کو مختلف صورتوں میں پڑھا جا سکتا تھا، نقطہ اور اعراب کے بغیر اس کا تعین سخت مشکل تھا۔ مثال کے طور پر قرآن کی پہلی سورہ میں مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کی آیت ہے۔ اس آیت میں مَالِك کا لفظ اگر نقطہ اور اعراب کے بغیر ہو تو اس کو کم از کم پانچ صورتوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مثلاً: مَلِكْ، مِلْكْ، مُلْكْ، مُلُكْ، مَلِكُ۔ خلافتِ راشدہ کے آخری زمانے تک یہ حال تھا کہ لوگوں نے قرآن کے نسخے لکھ کر بڑی تعداد میں تیار کر لئے تھے، لیکن یہ تمام نسخے نقطہ اور اعراب کے بغیر تھے۔ چناں چہ لوگوں کے درمیان قرآن کی قرأت میں بہت زیادہ اختلافات پیدا ہوگئے، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تکفیر اور تفسیق کرنے لگا۔ یہ مسئلہ بے حد سنگین صورت اختیار کر گیا، حتیٰ کہ امت کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا۔ اُس وقت اموی خلیفہ عبد المالک بن مروان (وفات: 705ء) نے اپنے گورنر حجاج بن یوسف الثقفی (وفات: 714ء) کو حکم دیا کہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے۔ حجاج نے علما اور ماہرین کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues