Al-Risala · December 2013 · page 10

قرآن اور حدیث کا معاملہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۰

مشورے سے یہ طے کیا کہ قرآن کی آیتوں کو نقطہ اور اعراب کے ساتھ لکھا جائے۔ موجودہ زمانے میں جو قرآن ہر جگہ پایا جاتا ہے، وہ حجاج کے زمانے کے اسی منقوط اور معرب قرآن کی نقل ہے۔ اس کے بعد ایک اور مسئلہ باقی تھا، وہ اسلوب کتابت کا مسئلہ تھا۔ قدیم کتابت میں وہ حسن موجود نہ تھا جو آج کے نسخوں میں نظر آتا ہے۔ مختلف ماہرین نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار مشہور خطاط ابو علی محمد بن علی بن مقلہ (وفات: 940ء) نے وہ خوب صورت خط ایجاد کیا جس کے مطابق، بعد کو قرآن لکھا جانے لگا۔ موجودہ قرآنی خط ابن مقلہ کے اسی خط کی مزید ترقی یافتہ شکل ہے۔ قدیم عربی خط کو خط کوفی کہا جاتا ہے اور ابن مقلہ کے خط کو خط نسخ۔

اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو ابتدائی زمانے میں قرآن کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود قرآن کے ساتھ بھی تقریباً اسی قسم کے معاملات پیش آئے ہیں جو حدیث کے ساتھ پیش آئے ہیں۔ اہل قرآن، حدیث کی جن باتوں کو لے کر حدیث کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اُسی طرح مستشرقین (orientalists) قرآن کے بارے میں ایسا کرتے ہیں کہ وہ ابتدائی زمانے میں پیش آنے والی باتوں کو لے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن ایک مشتبہ کتاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں، کسی آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن ہے۔ وہ یا تو قرآن اور حدیث دونوں کے استناد کو مانے، یا دونوں کے استناد کا انکار کر دے۔ کیوں کہ جن باتوں کو لے کر وہ حدیث کا انکار کرے گا، تقریباً وہی باتیں قرآن کے لیے بھی موجود ہوں گی۔

قرآن اور حدیث کا معاملہ

قرآن اور حدیث کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ براہ راست طور پر پوری انسانیت سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے بغیر خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ ایک لفظ میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن تخلیقی منصوبے کا خدائی بیان (divine statement of the creation plan) ہے اور سنت ربانی حیات کا زندہ مظاہرہ (living demonstration of divine life) - قرآن اور حدیث کو اس سے کم سمجھنا، قرآن اور حدیث کی بھی تصغیر ہے اور نعوذ باللہ، خدا کی تصغیر بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page