قرآن اور حدیث کا معاملہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۱
اللہ تعالیٰ نے جب انسان (آدم) کو پیدا کیا تو آغاز ہی میں اس کو جنت میں بسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان اول سے کہا: تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے (2:35)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو آغاز ہی میں اُس کو جنت میں بسا دیا۔ گویا کہ ابتدائی طور پر جنت، انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر دی گئی تھی، یعنی سارے عورت اور مرد جنت میں قیام کریں اور خدا کی حمد کرتے ہوئے اُسی سے انجوائے (enjoy) کریں۔ لیکن انسان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترا، اس لیے اس کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بسا دیا گیا اور خدا کا یہ فیصلہ ہوا کہ اب جنت، انسان کو انتخابی بنیاد (selective basis) پر دی جائے گی، یعنی صرف اُن لوگوں کو جو قول و عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں۔
انسان کے بارے میں اس تخلیقی نظام کو بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ ایک طرف اُس کو قرآن کی شکل میں ایک مستند ہدایت نامہ دے دیا، اور دوسری طرف، سنت رسول کی شکل میں اس کے لیے ایک عملی نمونے کا انتظام فرما دیا۔ خدا کے منصوبے کو سمجھنے کے لیے دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں، کیوں کہ قرآن میں صرف بنیادی چیزوں کا ذکر ہے۔ اور جہاں تک تفصیلی باتوں کا تعلق ہے، وہ صرف سنت رسول میں پائی جاتی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ قرآن کی سورہ البلد میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو مشقت (toil) میں پیدا کیا (90:4)۔ قرآن کی اس آیت میں ایک عالمی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اس دنیا میں کہیں نہ کہیں مصیبت (suffering) کا تجربہ پیش آتا ہے۔ اس واقعے کو لے کر پوری تاریخ میں تمام لوگ منفی سوچ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی میں یہ مصیبتیں کیوں پیش آتی ہیں، حتی کہ بہت سے لوگ اس واقعے کو خدا کے وجود کے خلاف سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں۔ مگر حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی مصیبت (suffering) اپنے اندر ایک عظیم مثبت پہلو رکھتی ہے۔ یہ مصیبت دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues