Al-Risala · December 2013 · page 12

حفاظتِ حدیث کا اہتمام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۲

زندگی کی مصیبت قابل شکر ہے، نہ کہ قابل شکایت۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الله إذا أحب قوماً ابتلاهم (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2396) یعنی اللہ جن لوگوں سے محبت کرتا ہے، اُن کو آزمائش (مصیبت) میں ڈال دیتا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کا معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ اُس کے لیے خدا کی رحمت ہوتا ہے، وہ اس کا تزکیہ کر کے اس کو جنت کا مستحق بناتا ہے، مصیبت آدمی کی سرکشی کو ختم کرتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر گہری فکر پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بناتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر احتیاط کا مزاج پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر احتساب (introspection) کی کیفیت کو جگاتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر خدا کی یاد پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کو فرشتوں کا ہمنشیں بناتی ہے، وغیرہ۔

اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو ہم کو حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ حدیث کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ اُس سے پانچ وقت کی نماز کا علم حاصل ہوتا ہے، یا کچھ شرعی احکام معلوم ہوتے ہیں۔ حدیث کا فائدہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ حدیث آدمی کی معرفت کو بڑھاتی ہے، حدیث آدمی کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بنتی ہے، حدیث آدمی کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہے، حدیث کسی آدمی کو قرآن فہمی کے قابل بناتی ہے، حدیث آدمی کے لیے ربانی تربیت کا ذریعہ ہے، وغیرہ۔

حفاظتِ حدیث کا اہتمام

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر عباسی دور تک کا جو زمانہ ہے، اس کی تاریخ مکمل طور پر موجود ہے۔ اس سلسلے میں عربی کتابوں کے مطالعے سے پورے معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دورِ اول کے اہل ایمان نے حفاظتِ حدیث کا بھی وہی اہتمام کیا جو انھوں نے حفاظتِ قرآن کے سلسلے میں کیا تھا۔ اس اعتبار سے، دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ دونوں کے بارے میں ایسا کیا گیا کہ ایک طرف ان کو لکھا جاتا رہا اور دوسری طرف اُن کو حافظے میں محفوظ کر لیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page