Al-Risala · December 2013 · page 13

حفاظتِ حدیث کا اہتمام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۳

یہ سلسلہ نسل درنسل جاری رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا اور قرآن اور حدیث دونوں کے ذخیرے کو طباعت کے ذریعے آخری طور پر محفوظ کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں یہ صرف ایک غلط فہمی ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی کہ قرآن کو لکھا جائے اور حدیث کو نہ لکھا جائے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ دورِ اوّل کے علما اور محدثین نے صحابہ کے درمیان بکھری ہوئی حدیثوں کو غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے اکٹھا کیا۔ رجال حدیث اور متون حدیث کی تحقیق کے لیے نئے علوم وضع کیے ۔ کامل چھان بین (scrutiny) کے بعد انھوں نے مستند احادیث کے مجموعے تیار کیے اور غیر مستند روایتوں کو الگ کر دیا۔ مسند امام احمد بن حنبل جس کو حدیث کا انسائیکلو پیڈیا سمجھا جاتا ہے، اُس میں تیس ہزار روایتیں موجود ہیں۔ بقیہ روایتوں کو ملا کر احادیث رسول کی تعداد تقریباً پچاس ہزار ہو جاتی ہے۔ پچھلے ادوار میں یہ حدیثیں کتابوں کی شکل میں ہوتی تھیں۔ اب کمپیوٹر کے دور میں حدیثوں کے اس ذخیرے کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ احادیث کی تنقیح کا یہ کام ہزار سال سے جاری تھا۔ ہر دور میں علما تاریخی معلومات کی روشنی میں دوبارہ احادیث کے مجموعے کا جائزہ لیتے رہے، شخصی طور پر بھی اور ادارے کے طور پر بھی۔ موجودہ زمانے میں مشہور عرب محدث شیخ محمد ناصر الدین الالبانی (وفات: 1999) نے پورے ذخیرۂ حدیث کا ازسر نو جائزہ لیا اور لمبے مطالعہ اور تحقیق کے بعد 21 ضخیم مجلدات تیار کیے۔ انھوں نے خالص علمی تحقیق کے بعد مستند روایتوں کو غیر مستند روایتوں سے الگ کر دیا اور دونوں کو جدید طباعتی معیار پر شائع کر دیا۔ اس مجموعے کی 7 جلدیں مستند احادیث پر مشتمل ہیں اور اُن کا نام یہ ہے: سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها ۔ اس مجموعے کی 14 جلدیں غیر مستند روایتوں پر مشتمل ہیں اور اُن کا نام یہ ہے: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة. یہ پورا مجموعہ انٹرنیٹ (www.waqfeya.com) پر موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حفاظت اور تدوین کے اعتبار سے، علما امت نے قرآن اور حدیث دونوں کے لیے یکساں طور پر کام کیا ہے، حتیٰ کہ دور طباعت سے پہلے حدیث کے حفاظ بھی اُسی طرح ہوتے تھے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page