کتابت حدیث کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۴
جس طرح قرآن کے حفاظ ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے، دونوں کے درمیان اصلاً جو واحد فرق ہے، وہ یہ کہ قرآن کے غیر مستند ذخیرے کو جلا کر ختم کر دیا گیا اور صرف مستند مجموعہ کو باقی رکھا گیا۔ جب کہ حدیث کے معاملے میں یہ ہوا کہ ان کی تنقیح کا کام تو پوری طرح کیا گیا، لیکن غیر مستند روایتوں کو کتابوں میں باقی رکھا گیا، اُن کو جلا کر ختم نہیں کیا گیا۔
لیکن اِس فرق کی بنا پر دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق واضح نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جو چیز علمی معیار پر غیر مستند ثابت ہو جائے، وہ اہل علم کے لیے عملاً بھی غیر مستند ثابت ہو جاتی ہے، خواہ وہ کتابوں میں لکھی ہوئی موجود ہو یا موجود نہ ہو۔ علوم کی تاریخ میں اس نوعیت کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر شمسی نظام (solar system) کو لیجئے ۔ کو پرنکس (Nicolaus Copernicus) اور گلیلیو (Galileo Galilei) کی تحقیقات کے بعد آفتاب مرکزی ماڈل (heliocentric model) کو ایک مسلمہ کے طور پر مان لیا گیا ہے، جب کہ اس سے پہلے اس معاملے میں لمبی مدت تک زمین مرکزی ماڈل (geocentric model) کو درست تسلیم کیا جاتا تھا۔
اگر آپ لائبریری اور میوزیم کا جائزہ لیں تو آپ پائیں گے کہ زمین مرکزی ماڈل کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا لٹریچر اب بھی ہر جگہ موجود ہے، اس کو جلا کر ختم نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود آج کی دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ قدیم لٹریچر کو لے کر زمین مرکزی ماڈل کی صحت کا دعویٰ کرے۔ لوگوں کو چاہئے کہ اسی اصول کو وہ حدیث کے معاملے میں بھی اختیار کریں۔ مستند حدیثوں کے علاوہ، وہ دوسری روایتوں کو غیر معتبر مان کر رد کردیں۔ وہ ان غیر معتبر روایتوں کی تحریری موجودگی کو اُسی طرح عذر نہ بنائیں جس طرح وہ زمین مرکزی ماڈل کی تحریری موجودگی کو عذر نہیں بناتے۔
کتابت حدیث کا مسئلہ
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں، مسند احمد، صحیح مسلم، الدارمی میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تكتبوا عني، ومن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عني ولا حرج، ومن كذب علي، قال
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues